قدرت کی دنیا میں بقا کی جنگ بعض اوقات ایسے فیصلوں پر مجبور کر دیتی ہے جو انسانوں کے لیے حیران کن اور تکلیف دہ محسوس ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک مثال سفید سارس ہے، جو بعض حالات میں اپنے ہی کمزور بچے کو گھونسلے سے نکال دیتا ہے یا اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سفید سارس ایسا صرف اس وقت کرتا ہے جب خوراک کی شدید کمی ہو یا والدین کو محسوس ہو کہ وہ تمام بچوں کو زندہ رکھنے کے لیے مطلوبہ خوراک فراہم نہیں کر سکتے۔
سارس عموماً ایک وقت میں تین سے5 انڈے دیتا ہے، تاہم تمام بچے یکساں مضبوط نہیں ہوتے۔ جو بچہ کمزور ہو، دیر سے پیدا ہوا ہو یا بیمار ہو، وہ خوراک کے حصول میں اپنے بہن بھائیوں سے پیچھے رہ جاتا ہے۔
ایسی صورت میں والدین بعض اوقات کمزور بچے کو نظر انداز کر دیتے ہیں، اسے خوراک دینا بند کر دیتے ہیں یا اسے گھونسلے سے باہر نکال دیتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد باقی مضبوط بچوں کے زندہ رہنے کے امکانات بڑھانا ہوتا ہے۔
حیاتیات کے ماہرین اس رویے کو قدرتی انتخاب اور بقا کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق محدود وسائل میں والدین اپنی توانائی ان بچوں پر صرف کرتے ہیں جن کے زندہ رہنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ سفید سارس ہر بار ایسا نہیں کرتا۔ اگر خوراک وافر مقدار میں دستیاب ہو تو عموماً والدین تمام بچوں کی پرورش کرتے ہیں اور انہیں اڑنے کے قابل بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق یہ رویہ صرف سفید سارس تک محدود نہیں بلکہ عقاب، بگلے، پینگوئن اور دیگر کئی پرندوں کی بعض اقسام میں بھی مخصوص حالات کے تحت دیکھا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ عمل انسانی نقطۂ نظر سے بے رحم محسوس ہوتا ہے، لیکن جنگلی حیات میں اسے فطری بقا کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جہاں محدود وسائل کے درمیان نسل کے زیادہ سے زیادہ افراد کو زندہ رکھنا اولین ترجیح ہوتی ہے۔