ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک اور مالی بوجھ کی تیاری کر لی گئی ہے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نیشنل گرڈ کمپنی کو سسٹم اخراجات کی مد میں تقریباً 200 ارب روپے وصول کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد بجلی کے نرخوں میں اضافے اور صارفین کے ماہانہ بل مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نیشنل گرڈ کمپنی نے گزشتہ تین سال کے ریونیو سے متعلق سسٹم اخراجات کی وصولی کے لیے نیپرا سے رجوع کیا تھا۔ درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد نیپرا نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کمپنی کو مقررہ رقم وصول کرنے کی اجازت دے دی۔
فیصلے کے مطابق ان اخراجات کی وصولی کا عمل یکم اگست 2026 سے شروع کیا جائے گا۔ یہ رقم ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) جن میں لیسکو سمیت دیگر بجلی فراہم کرنے والے ادارے شامل ہیں کے ذریعے صارفین سے وصول کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسکوز کو ٹیرف میں مناسب ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اضافی رقم وصول کرنے کی اجازت دی جائے گی جس کے باعث فی یونٹ بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو گھریلو تجارتی اور صنعتی صارفین کے ماہانہ بجلی کے بل مزید بڑھ جائیں گے۔
سسٹم اخراجات کی وصولی کا مقصد نیشنل گرڈ کے مالی معاملات کو مستحکم بنانا ہے تاہم اس کا براہِ راست اثر عام صارفین پر پڑے گا جو پہلے ہی بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور مہنگائی کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اگر فی یونٹ نرخوں میں اضافہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف بجلی کے بلوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ صنعتی پیداوار کاروباری لاگت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں بھی مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی پر اضافی دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔
حکام کے مطابق وصول کی جانے والی رقم نیشنل گرڈ کے سسٹم اخراجات کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جائے گی جبکہ اس حوالے سے ٹیرف میں ممکنہ اضافے کی تفصیلات متعلقہ تقسیم کار کمپنیوں اور نیپرا کی جانب سے آئندہ جاری کی جائیں گی۔