پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کی مارکیٹ سے 1.5 ٹریلین ڈالر (مساوی 1500 ارب ڈالر) کے تجارتی و تعمیراتی ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر ایک ’مڈل ایسٹ ریکوری مشن‘ کا آغاز کرے۔
تحقیقی ادارے کے مطابق پاکستان اب تک خلیجی ممالک کو صرف افرادی قوت بھیجنے تک محدود رہا ہے، جبکہ وہاں تعمیرات، لاجسٹکس، آئی ٹی اور انجینیئرنگ کے شعبوں میں موجود کھربوں ڈالرز کے تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
خلیج میں 1.5 ٹریلین ڈالرز کے مواقع اور پاکستانی برآمدات کا بحران
پالیسی پیپر میں پی آئی ڈی ای نے واضح کیا ہے کہ اس دہائی میں مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے منصوبے 1.5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں۔ ان منصوبوں میں ‘سعودی ویژن 2030’ کے علاوہ غزہ، شام اور لبنان میں تعمیر نو کے وسیع کام شامل ہیں۔
افرادی قوت کا بحران
سال 2025 میں پاکستان نے 762,000 سے زیادہ ورکرز بیرونِ ملک بھیجے، لیکن ان میں سے تقریباً 61 فیصد غیر ہنر مند تھے، جس کی وجہ سے ان کی آمدنی انتہائی کم رہی ہے۔
تجارتی خسارہ
مالی سال 2025 میں پاکستان نے جی سی سی ممالک کو صرف 3.79 ارب ڈالر کی اشیا برآمد کیں، جبکہ اس کے مقابلے میں درآمدات کا حجم تقریباً 17.9 ارب ڈالر رہا، جو ایک بہت بڑا تجارتی خسارہ ہے۔
’مڈل ایسٹ ریکوری مشن‘ اور ایس آئی ایف سی کا کردار
پی آئی ڈی ای نے تجویز پیش کی ہے کہ وزیراعظم کے تحت ’اسپیشل انوسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل‘ کو اس مشن کا سربراہ بنایا جائے، جس کے تحت درج ذیل اقدامات کیے جائیں۔
مہارت کی تصدیق، برآمدات، سرمایہ کاری، دفاعی و صنعتی تعاون اور تارکینِ وطن کے تحفظ کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیے جائیں۔
ہنر کی تصدیق
ورکرز کو بیرونِ ملک بھیجنے سے قبل بین الاقوامی معیار کے مطابق سرٹیفیکیشن دی جائے۔
مشترکہ منصوبے
پاکستانی کمپنیوں کو خلیجی منصوبوں میں سب کانٹریکٹس اور مشترکہ منصوبے حاصل کرنے کے لیے حکومتی سطح پر معاونت فراہم کی جائے۔
تعمیراتی مواد کی برآمدگی
پاکستان صرف افرادی قوت کے بجائے تعمیراتی مواد، ادویات اور سرجیکل آلات کی برآمدات کو بڑھائے۔
پی آئی ڈی ای رپورٹ کے مطابق ’پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کو محض افرادی قوت بھیجنے کی منڈی کے بجائے اپنے کاروبار اور سروسز کے لیے ایک اسٹریٹجک مارکیٹ کے طور پر دیکھنا ہوگا۔‘
متوقع معاشی فوائد اور اہداف
تحقیقی ادارے کا تخمینہ ہے کہ اگر اس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا گیا تو ابتدائی 3 سالوں کے اندر سالانہ 2 سے 4 ارب ڈالر کے اضافی بیرونی فنڈز پاکستان آئیں گے۔ منصوبے کے 5ویں سال تک یہ سالانہ حجم 5 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے نادرا، بینکنگ اور انشورنس سے منسلک ایک ‘گلف ورکر آئی ڈی’ متعارف کرانے اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بچت کو پیداواری منصوبوں میں لگانے کے لیے ’ڈائیلاسپورا ڈویلپمنٹ بانڈ‘ جاری کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
پاکستان کی روایتی معاشی پالیسی ہمیشہ سے خلیجی ممالک سے امداد اور قرضوں یا صرف مزدوروں کے زرمبادلہ پر منحصر رہی ہے۔ پی آئی ڈی ای کا یہ پالیسی پیپر اس فرسودہ سوچ کو بدلنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
غیر ہنر مند افرادی قوت کا نقصان
61 فیصد افرادی قوت کا غیر ہنر مند ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم خلیج کو سستے مزدور تو دے رہے ہیں لیکن وہاں کے انجینیئرنگ اور ٹیکنالوجی سیکٹرز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے۔ جب تک پاکستان اپنے ورکرز کو جدید ہنر (جیسے آئی ٹی، لاجسٹکس، ہیلتھ کیئر) کے مطابق سرٹیفائیڈ نہیں کرتا، تب تک ترسیلاتِ زر میں بڑا اضافہ ممکن نہیں۔
برآمدی حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت
خلیجی ممالک اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے تعمیراتی دور سے گزر رہے ہیں۔ تعمیراتی میٹریل اور فارماسیوٹیکل مصنوعات کی وہاں شدید طلب ہے۔ ایس آئی ایف سی کے ذریعے ان کمپنیوں کو حکومتی سرپرستی دینا ہی پاکستان کو درآمدی معیشت سے برآمدی معیشت میں تبدیل کر سکتا ہے۔