تحریک انصاف نے فتنہ الخوارج کی 2025 کی ویڈیوز کو باڑہ سے منسوب کر کے سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل دہشتگردی کا آغاز کر دیا۔ سوشل میڈیا پر 3 فروری 2025 کی ایک پرانی ویڈیو کو باڑہ کی موجودہ حالات سے جوڑ کر شیئر کیا جارہا ہے۔
معلومات کے مطابق تحریک انصاف سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کی جانے والی ویڈیو میں خیبر پختونخوا پولیس کے اہلکاروں کو حراست میں دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پولیس اہلکاروں کو باڑہ میں عوام نے حراست میں لیا ہے، تاہم فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ ویڈیو 3 فروری 2025 کی ہے اور اسے موجودہ واقعات سے منسوب کرنا حقائق کے برعکس ہے۔
اطلاعات میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایڈٹ کرکے موجودہ حالات سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں ہنگامہ آرائی، سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور ریسکیو 1122 کے دفتر پر دھاوے کے واقعات کے بعد خیبر پختونخوا پولیس نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ 50 سے زائد شرپسندوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق باڑہ چوک پر عبدالغنی آفریدی، اقبال آفریدی اور شاہد خٹک کی سرکردگی میں شرپسند عناصر نے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی، جس کے دوران سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پایا اور ملوث عناصر کو گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق باڑہ میں انتشار پھیلانے کے واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کے بعد رات گئے مزید چھاپوں اور گرفتاریوں کا امکان ہے۔ ریسکیو 1122 کے دفتر پر دھاوا بولنے اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی کی اطلاعات ہیں۔