پولیس ایکشن پر پی ٹی آئی کارکنان کی دوڑیں لگ گئیں: باڑہ میں انتشار پھیلانے والے بلوں میں چھپنے پر مجبور

پولیس ایکشن پر پی ٹی آئی کارکنان کی دوڑیں لگ گئیں: باڑہ میں انتشار پھیلانے والے بلوں میں چھپنے پر مجبور

ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں ہنگامہ آرائی، سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور ریسکیو 1122 کے دفتر پر دھاوے کے واقعات کے بعد خیبر پختونخوا پولیس نے کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ 50 سے زائد شرپسندوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق باڑہ چوک پر عبدالغنی آفریدی، اقبال آفریدی اور شاہد خٹک کی سرکردگی میں شرپسند عناصر نے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی، جس کے دوران سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پایا اور ملوث عناصر کو گرفتار کر لیا۔

ذرائع کے مطابق باڑہ میں انتشار پھیلانے کے واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کے بعد رات گئے مزید چھاپوں اور گرفتاریوں کا امکان ہے۔ ریسکیو 1122 کے دفتر پر دھاوا بولنے اور توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مظاہرین یا دہشتگرد: باڑہ میں ڈنڈا بردار مسلح جتھے کا ٹاک ٹاک بنانے کے لئے گھر سے لائی ہوئی پولیس وردیاں جلانے کا ڈرامہ

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کارروائیوں کے باعث پی ٹی آئی کے بعض کارکنوں میں کھلبلی مچ گئی ہے، جبکہ پشاور سے قیدیوں کی وینیں باڑہ روانہ کیے جانے اور بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کی تیاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اطلاعات کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں بڑی تعداد غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی ہے، جبکہ عبدالغنی آفریدی، اقبال آفریدی اور شاہد خٹک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ پولیس کارروائی کے بعد فرار ہیں۔

متعلقہ حکام کے مطابق ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔

Related Articles