خیبر پختونخوا کی نئی حکومت انقلابی اقدام،پی ٹی آئی کے تاریک دور کے ٹوٹے پھوٹے سکولوں کو مکمل فعال کرنے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا کی نئی حکومت انقلابی اقدام،پی ٹی آئی کے تاریک دور کے ٹوٹے پھوٹے سکولوں کو مکمل فعال کرنے کا فیصلہ

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں الخیر ایجوکیشن سسٹم کی عمارت کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی ساختیاتی حفاظت کا جامع سروے اور تکنیکی معائنہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام اضلاع میں ماہر تکنیکی ٹیمیں نامزد کرکے سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حالت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کو ارسال کردہ مراسلے کے مطابق یہ اقدام خیبرپختونخوا کے گورنر کے مشیر برائے تعلیم کی ہدایات پر کیا جا رہا ہے۔ دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور طلبہ و اساتذہ کے زخمی ہونے کے بعد تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات اور عمارتوں کی مضبوطی کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

تمام اضلاع میں تکنیکی ٹیمیں نامزد کرنے کی ہدایت

مراسلے میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سے کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ ضلعی تعلیمی حکام کے ساتھ رابطہ کرکے صوبے کے تمام اضلاع کے لیے ماہر تکنیکی ٹیمیں نامزد کرے۔ ان ٹیموں کو اپنے متعلقہ اضلاع میں تمام سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا جامع سروے اور موقع پر معائنہ کرنا ہوگا۔

سروے میں عمارتوں کی ساختیاتی مضبوطی، مجموعی طبعی حالت، دیکھ بھال کے انتظامات اور طلبہ، اساتذہ سمیت دیگر عملے کے لیے ان کے محفوظ استعمال کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس عمل میں لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو بھی شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی اسکول کا معائنہ رہ نہ جائے۔

چھتوں، دیواروں اور بنیادوں کی جانچ ہوگی

نامزد تکنیکی ٹیمیں اسکولوں کی عمارتوں کے اہم حصوں کا تفصیلی معائنہ کریں گی۔ اس دوران چھتوں، سیلنگز، دیواروں، بیمز، بنیادوں، سیڑھیوں اور دیگر ساختی اجزا کی حالت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ عمارتوں میں موجود نقائص اور ممکنہ حفاظتی خطرات کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

 یہ بھی پڑھیں :فتنہ ختم، کام شروع! خیبرپختونخوا میں ایڈوائزری کونسل کے 11 ارکان کو اہم محکموں کے قلمدان سونپ دیے گئے

معائنے کے نتائج کی بنیاد پر اسکولوں کی عمارتوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا جائے گا۔ پہلی قسم میں محفوظ عمارتیں شامل ہوں گی، دوسری میں وہ عمارتیں رکھی جائیں گی جنہیں مرمت یا بہتری کی ضرورت ہوگی، جبکہ تیسری قسم میں ایسی عمارتیں شامل ہوں گی جو ممکنہ طور پر غیر محفوظ ہوں اور جن کے فوری تکنیکی جائزے کی ضرورت ہو۔

خطرناک عمارتوں کے استعمال پر پابندی کی سفارش

مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی اسکول کی عمارت طلبہ، اساتذہ یا دیگر عملے کی جان و سلامتی کے لیے فوری خطرہ ثابت ہو تو متعلقہ ضلعی حکام کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔ ایسی عمارتوں کے معاملے میں ضروری احتیاطی اقدامات تجویز کیے جائیں گے، جن میں ضرورت کے مطابق عمارت میں داخلے پر پابندی عائد کرنا یا اس کا استعمال معطل کرنا بھی شامل ہے۔

تکنیکی ٹیموں کو یہ ذمہ داری بھی دی گئی ہے کہ وہ عمارتوں میں ضروری مرمت، ساختی مضبوطی، بحالی اور دیگر اصلاحی اقدامات کے لیے سفارشات مرتب کریں۔ ان سفارشات میں ہر کام کی ترجیح اور اس کی تکمیل کے لیے مجوزہ مدت بھی واضح کرنا ہوگی۔

مراسلے کے مطابق جن عمارتوں میں حفاظتی نقائص کی نشاندہی ہو، ان کی خامیاں دور کرنے اور مطلوبہ تکنیکی منظوری حاصل کرنے کے لیے مؤثر لائحہ عمل تجویز کیا جائے گا۔ کسی غیر محفوظ عمارت کو دوبارہ استعمال میں لانے سے پہلے ضروری اصلاحی اقدامات اور تکنیکی کلیئرنس کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

26 اکتوبر تک رپورٹ جمع کرانے کی ڈیڈ لائن

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو ہدایت کی گئی ہے کہ نامزد ٹیموں کے ذریعے سروے مکمل کروا کر ہر ضلع کی جامع معائنہ رپورٹ 26 اکتوبر 2026ء کو دوپہر 12 بجے تک متعلقہ محکمے میں لازمی جمع کرائی جائے۔

رپورٹس میں معائنے کے نتائج، عمارتوں کی درجہ بندی، سامنے آنے والے نقائص، مجوزہ اصلاحی اقدامات اور ان پر عمل درآمد کی مدت شامل کرنا ضروری ہوگا۔ اس طرح صوبے کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کی موجودہ حالت اور فوری توجہ کے متقاضی معاملات کی تفصیلات مرتب کی جا سکیں گی۔

ہر اسکول کے لیے سیفٹی سرٹیفکیٹ اور این او سی بھی لازم

ہدایت نامے کے مطابق سروے اور تکنیکی جائزے کی تکمیل کے بعد نامزد ٹیموں کو معائنہ کیے گئے ہر سرکاری اسکول کے لیے بلڈنگ سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ یا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) بھی پیش کرنا ہوگا۔

سرٹیفکیٹ میں عمارت کی ساختیاتی حفاظت اور اسے معمول کے مطابق استعمال کرنے کے لیے موزونیت واضح کرنا ضروری ہوگا۔ اگر کسی عمارت کے استعمال کے لیے مخصوص شرائط پوری کرنا یا اصلاحی اقدامات کرنا لازم ہوں تو ان کی تفصیلات بھی درج کی جائیں گی۔

مراسلے میں اس کارروائی کو عوامی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اولین ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں میں ممکنہ حفاظتی خطرات کی نشاندہی، ضروری اصلاحات کی سفارش اور طلبہ، اساتذہ و دیگر عملے کی جان و سلامتی کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات یقینی بنانا ہے۔

editor

Related Articles