خیبرپختونخوا کے معدنی ذخائر اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کے حوالے سے سینئر تجزیہ کار سید شاہ رضا نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی معدنیات سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ مخصوص سیاسی شخصیات، افسران اور ٹھیکیداروں تک پہنچتا رہا ہے۔ انہوں نے معدنیات کے پرمٹس، مبینہ مالی لین دین اور دہشت گرد گروہوں کو حصے کی ادائیگی کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ ویڈیو میں سید شاہ رضا کا کہنا ہے کہ عام طور پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا کی معدنیات کہاں گئیں اور فوج ان معدنیات کو کہاں لے گئی، تاہم ان کے بقول معدنیات کا محکمہ گزشتہ ساڑھے 13 سال سے خیبرپختونخوا حکومت کے پاس ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی سب سے زیادہ اور قیمتی معدنیات چترال میں موجود ہیں۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ علیمہ خان کے بیٹے شاریز خان کی اہلیہ کا تعلق چترال سے ہے اور وہاں قیمتی معدنیات کے تمام پرمٹس شاریز خان اور ان کی اہلیہ کے نام پر ہیں۔
سید شاہ رضا نے مزید الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کی معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدن کا 50 فیصد، جو ان کے مطابق اربوں روپے بنتا ہے، ہر ہفتے سیکریٹری معدنیات اسرار خان براہِ راست لاہور میں علیمہ خان کے گھر پہنچاتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ باقی 50 فیصد رقم میں سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی، ان کے منظورِ نظر افسران اور ٹھیکیداروں کو حصہ ملتا تھا۔
ویڈیو میں انہوں نےمزید دعویٰ کیا کہ اسی رقم میں سے طالبان اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو بھی حصہ دیا جاتا ہے۔
سید شاہ رضا کا کہنا تھا کہ ایک طرف فوج پر خیبرپختونخوا کے معدنی ذخائر لوٹنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق فوج ان ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے کام کر رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف اس عمل میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔
