پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ مؤثر اقدامات کے ذریعے ستمبر کی متوقع فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ 5 سے 6 روپے فی یونٹ سے کم کرکے 2 روپے 56 پیسے فی یونٹ تک محدود کردی گئی، جس کے نتیجے میں بجلی صارفین کو فی یونٹ 3 روپے 44 پیسے تک کے اضافی بوجھ سے بچا لیا گیا۔
پاور ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق ستمبر میں بجلی صارفین کو بھاری فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے بچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے، جن میں 2 سے ڈھائی گھنٹے کی محدود لوڈ مینجمنٹ بھی شامل تھی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک پہنچ سکتی تھی۔
پاور ڈویژن کے مطابق مہنگے متبادل ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے اثرات کم کرنے کے لیے ہدفی بنیادوں پر لوڈ مینجمنٹ کی گئی، کیونکہ فرنس آئل اور ہائی اسپیڈ ڈیزل سے بجلی کی پیداوار کے باعث فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں اضافے کا خدشہ تھا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ بجلی کی پیداوار کے لیے درآمدی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) مقامی گیس کے نرخوں پر فراہم کی گئی، جس سے بجلی صارفین پر فی یونٹ 83 پیسے کا بوجھ کم ہوا۔
پاور ڈویژن کے مطابق ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اگست کے مقابلے میں اب صرف 1 روپے 45 پیسے فی یونٹ زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ اس ایڈجسٹمنٹ کے مجموعی مالی اثرات 32 ارب 70 کروڑ روپے تک رہنے کا تخمینہ ہے۔
اعلامیے کے مطابق علاقائی تنازع کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی، جبکہ بنیادی بجلی ٹیرف کے تعین کے وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل فرض کی گئی تھی۔
پاور ڈویژن نے مزید بتایا کہ قطر کی جانب سے فورس میژر کے اعلان کے باوجود پاکستان نے دستیاب معاہداتی سپلائی اور اضافی اسپاٹ کارگوز کے ذریعے ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش جاری رکھی۔
