بجلی گھروں اور توانائی نظام پر حملے رکیں گے؟ ٹرمپ کے اعلان پر زیلینسکی تیار، ماسکو خاموش

بجلی گھروں اور توانائی نظام پر حملے رکیں گے؟ ٹرمپ کے اعلان پر زیلینسکی تیار، ماسکو خاموش

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے دوران توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے لیے فوری جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔ 

یوکرین کے صدر ولادومیر زیلینسکی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ تاہم روس کی جانب سے اس جنگ بندی پر عمل درآمد کی تصدیق سامنے نہیں آسکی۔
مجوزہ جنگ بندی کے تحت روس اور یوکرین ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو فضائی اور میزائل حملوں کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔

اس میں بجلی گھر، بجلی کی ترسیل کا نظام اور توانائی کی فراہمی سے متعلق دیگر تنصیبات شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جنگ بندی فوری طور پر مؤثر ہوگئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد توانائی کے نظام کو حملوں سے محفوظ رکھنا اور شہریوں کو بجلی سمیت دیگر ضروری توانائی کی فراہمی جاری رکھنا ہے۔
زیلینسکی کا خیرمقدم
یوکرین کے صدر ولادومیر زیلینسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے۔
میڈیا  سے گفتگو کرتے ہوئے زیلینسکی نے واضح کیا کہ اگر روس توانائی کی تنصیبات پر حملے روک دیتا ہے تو یوکرین بھی اسی طرز کا اقدام کرے گا۔
زیلینسکی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین توانائی کے شعبے میں حملوں کو روکنے کے لیے جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے آمادہ ہے۔ تاہم اس کے لیے روس کی جانب سے بھی عملی اقدامات ضروری ہوں گے۔
یوکرینی صدر نے اس معاملے میں جنگ بندی کے آغاز کی تاریخ واضح کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ اس معاملے پر مفاہمت کی ہے تو اس کی مؤثر ہونے کی تاریخ بتائی جائے۔
 
ماسکو کی تصدیق کا انتظار
دوسری جانب روسی حکومت کی جانب سے امریکی صدر کے اعلان کردہ توانائی جنگ بندی پر عمل درآمد کی تاحال تصدیق سامنے نہیں آسکی۔
اس صورت حال میں جنگ بندی کے عملی نفاذ اور روس کی جانب سے اس کی شرائط قبول کرنے سے متعلق سوالات برقرار ہیں۔

 یوکرینی صدر نے اپنی آمادگی ظاہر کردی ہے لیکن روسی مؤقف کی تصدیق کے بغیر دونوں ممالک کے درمیان اس انتظام کی مکمل صورت حال واضح نہیں ہوسکی۔
ٹرمپ کے اعلان اور زیلینسکی کے خیرمقدم کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا روس بھی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے یا نہیں۔
اگر دونوں فریق اس انتظام پر عمل کرتے ہیں تو بجلی گھروں، ترسیلی نظام اور توانائی کی دیگر تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں میں کمی آسکتی ہے۔ تاہم فی الحال اس پیش رفت کو مکمل جنگ بندی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اعلان کا دائرہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے تک محدود ہے۔

editor

Related Articles