آبنائے ہرمز میں ایک مال بردار جہاز ڈوبنے کے بعد سمندر کی سطح پر تیرتے آئی فونز اور مہنگے پرفیومز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں چھوٹی کشتیوں پر سوار افراد پانی سے قیمتی سامان نکالتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سنگاپور کے پرچم بردار کنٹینر جہاز جی ایف ایس پرائیڈ دبئی سے سامان لے کر روانہ ہوا تھا، تاہم بدھ کے روز ایک واقعے کے بعد اس میں آگ لگ گئی اور جہاز سمندر میں ڈوب گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاز میں تقریباً 2500 کنٹینرز موجود تھے، جن میں قیمتی پرفیومز اور آئی فونز بھی شامل تھے۔ تاہم، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
جہاز ڈوبنے کی وجہ سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ جہاز آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ڈوبا، کیونکہ ان کے مطابق وہ غیر مجاز راستے سے گزر رہا تھا۔ دوسری جانب سمندری حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کو نامعلوم نوعیت کے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز کے عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ واقعہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو پیش آنے والے مسلسل سکیورٹی واقعات کے دوران سامنے آیا ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے کے مطابق 48 گھنٹوں کے دوران ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے کم از کم پانچ واقعات رپورٹ ہوئے۔
سمندر میں تیرتے قیمتی سامان کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرلی ہے، تاہم جہاز کے ڈوبنے کے اصل حالات اور وائرل مناظر کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔