اب آیا عوامی دور، پشاور بی آر ٹی کے لیے جدید بسیں پہنچ گئیں، شہریوں کو بہتر سفری سہولتیں دینے کے منصوبے پر عملی کام شروع ہوگیا

اب آیا عوامی دور، پشاور بی آر ٹی کے لیے جدید بسیں پہنچ گئیں، شہریوں کو بہتر سفری سہولتیں دینے کے منصوبے پر عملی کام شروع ہوگیا

شہریوں کو جدید اور بہتر سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پشاور کے بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) نظام میں نئی بسوں کی شمولیت کا عمل جاری ہے۔ ٹرانس پشاور کے مطابق رواں سال خریدی گئی 52 نئی بسوں میں سے 25 پشاور پہنچ چکی ہیں، جبکہ باقی 27 بسوں کی آمد بھی متوقع ہے۔ تمام بسوں کی شمولیت کے بعد بی آر ٹی کے بیڑے میں بسوں کی مجموعی تعداد 296 ہو جائے گی۔

نئی بسوں کی آمد سے مرکزی بی آر ٹی راہداری اور معاون روٹس پر مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سہولت فراہم کرنے، بسوں کے انتظار کا دورانیہ کم کرنے اور زیادہ شہریوں کو عوامی ٹرانسپورٹ تک رسائی دینے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ روزانہ کام، تعلیم، کاروبار اور علاج کے لیے سفر کرنے والے شہریوں کے لیے بہتر پبلک ٹرانسپورٹ وقت اور اخراجات کی بچت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

بی آر ٹی کے نظام میں بہتری کے لیے نئی ہائبرڈ بسوں کے ساتھ خواتین کے لیے مخصوص پنک بس سروس، حیات آباد میں نئے ڈپو اور چمکنی ڈپو میں شمسی توانائی کے منصوبے بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ پنک بس سروس کا مقصد خواتین کو محفوظ اور آرام دہ سفری سہولت فراہم کرنا ہے، جبکہ اضافی بسوں سے رش کے اوقات میں مسافروں پر دباؤ کم کرنے اور سروس کی گنجائش بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی اہمیت واضح کرتی ہے کہ شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے سکیورٹی کے ساتھ ساتھ روزمرہ سہولتوں، آمدورفت اور عوامی خدمات کو بھی ترجیح دی جائے۔ پشاور جیسے بڑے شہر میں قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ طلبہ، ملازمین، خواتین اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صرف فیصلے نہیں، عملی پیش رفت بھی محسن نقوی کی جانب سے فراہم کردہ بلٹ پروف گاڑیاں بنوں پولیس کے حوالے کر دی گئیں

ایمرجنسی کے بعد صوبے میں انتظامی ترجیحات اور عوامی سہولتوں کی فراہمی پر بحث جاری ہے، تاہم بی آر ٹی کی نئی بسوں کا منصوبہ ایمرجنسی سے پہلے شروع ہو چکا تھا۔ اب اصل ضرورت یہ ہے کہ تمام نئی بسیں بروقت سروس میں شامل ہوں، روٹس پر دستیابی بہتر بنائی جائے اور شہریوں کو اس منصوبے کے فوائد عملی طور پر محسوس ہوں۔ عوامی حکومت یا انتظامیہ کی کارکردگی کا حقیقی پیمانہ یہی ہے کہ شہریوں کو محفوظ، باقاعدہ اور قابلِ برداشت سفری سہولت میسر آئے۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles