وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کسی نے ختم نہیں کی، انہوں نے اپنی حکومت خود ختم کی، پہلا لانگ مارچ ہے جو اپنی حکومت کو کھا گیا۔
ساہیوال میں تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا کے جو وسائل ترقی کے لیے خرچ ہونے تھے وہ دھرنوں پر لگ رہے تھے، لیکن اب وہاں ترقی ہو گی ، جو کہتے تھے کہ عوام کو شعور دیا، انہوں نے عوام کی زندگیاں تباہ کر دیں، اب خیبر پختون خوا والوں کو پتہ چلے گا کہ ترقی کسے کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کبھی دیکھا ہے کہ ایک صوبہ دوسرے صوبے یا وفاق پر حملہ آور ہو جائے؟ پنجاب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے دور میں داخل ہو رہا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا ابھی ’پتھر کے زمانے‘ میں ہے ، صوبے کے وسائل نوجوانوں، مریضوں، سڑکوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں پر خرچ ہونے چاہیے تھے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے پنجاب میں ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی تقسیم 5 نومبر سے شروع کرنے کا اعلان بھی کیا، جن میں سے زیادہ تر طالبات کے لیے مختص ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ صوبے میں جس یونیورسٹی میں جاتی ہوں وہ نواز شریف نے بنائی ہوتی ہے، جس روڈ سے گزرتی ہوں، وہ نواز شریف نے بنایا ہوتا ہے، آپ نام لیں یا نہ لیں، کریڈٹ دیں یا نہ دیں، کام نواز شریف نے کرائے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں چھت گرنے سے 30 بچوں کی اموات پر انہیں دکھ ہے اور انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے صبر کی دعا کی ، ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو بھی ترقی، خدمت اور بہتر سہولتوں کا حق حاصل ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے اقتدار میں رہتے ہوئے ‘شعور’ اور ‘انقلاب’ کے نام پر نہ صرف ملک کی معاشی و اخلاقی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ خیبر پختونخوا کے اربوں روپے کے عوامی وسائل کو ہسپتالوں، اسکولوں اور سڑکوں کی تعمیر کے بجائے اسلام آباد پر دھرنوں اور وفاق کے خلاف چڑھائی میں بے دردی سے ضائع کیا ہے ، اپنے ہی فیصلوں اور انتشار پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے اپنی حکومت خود گنوانے والی یہ جماعت آج بھی تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے بجائے محض نعرے بازی کی سیاست پر کاربند ہے۔