سست روی کا باب بند! پی ٹی آئی کے زیرالتوا جمیل چوک پشاور انڈر پاس پر طوفانی تیزی ، نااہلی بے نقاب!

سست روی کا باب بند!  پی ٹی آئی کے  زیرالتوا جمیل چوک پشاور انڈر پاس پر طوفانی تیزی ، نااہلی بے نقاب!

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے  دورِ حکومت میں نظر انداز کیے گئے ترقیاتی منصوبے بالآخر گورنر راج اور موجودہ انتظامیہ کی ترجیح بن گئے ، پشاور کے انتہائی اہم جمیل چوک انڈر پاس کا تعمیراتی کام، جو پی ٹی آئی دور میں مسلسل سست روی اور انتظامی عدم توجہی کا شکار رہا، اب ہنگامی بنیادوں پر اور شدید تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے۔

پی ٹی آئی کی عدم توجہی اور شہریوں کی معاشی تباہی

جمیل چوک انڈر پاس کا منصوبہ پشاور میں ٹریفک کی روانی اور عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم تھا تاہم پی ٹی آئی کی سابقہ حکمرانی میں صرف کاغذی دعووں اور سیاسی ہنگامہ آرائی پر زور دیا گیا، جبکہ اس منصوبے کو التوا کا شکار بنا کر پشاور کے شہریوں اور تاجر برادری کو روزمرہ کے شدید ٹریفک جام اور معاشی نقصان میں دھکیل دیا گیا۔

عملی کارکردگی بمقابلہ سیاسی نعرے بازی

موجودہ انتظامیہ نے چارج سنبھالتے ہی اس عوامی منصوبے پر دن رات کام شروع کروا دیا ہے،  جمیل چوک انڈر پاس پر جاری طوفانی تیزی اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے پاس صوبے کی ترقی کے لیے نہ کوئی منصوبہ بندی تھی اور نہ ہی عوامی فلاح کی کوئی نیت۔ شہری اب سوال اٹھا رہے ہیں کہ جو کام چند ہفتوں کی توجہ سے ممکن تھا، پی ٹی آئی حکومت اسے سالوں تک کیوں نہ کر سکی؟

سست روی کا باب بند ہو چکا ہے اور اب سڑکوں پر عمل بول رہا ہے ، جمیل چوک انڈر پاس پر جاری دن رات کا کام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پشاور کے عوام کو زبانی جمع خرچ اور سیاسی ڈرامے بازی کی نہیں بلکہ عملی ترقی کی ضرورت تھی۔

یہ بھی پڑھیں:. اب کاغذی رپورٹ نہیں، عمارتوں کا موقع پر معائنہ، خیبرپختونخوا میں آج سے اسکولوں کی جانچ کا کام شروع

 پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے اپنے نو سالہ دور میں محض کھوکھلے نعروں اور انتشار کی سیاست سے پشاور کے بنیادی ڈھانچے کو برباد کیا اور شہریوں کو سڑکوں کی دھول اور ٹریفک کے عذاب میں مبتلا رکھا۔ لیکن موجودہ انتظامیہ نے چند ہی دنوں میں کام کی رفتار کو بڑھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جہاں نیت اور اخلاص ہو، وہاں نالائقی کا کوئی وائرس آڑے نہیں آ سکتا۔ پشاور کے عوام اب بخوبی دیکھ رہے ہیں کہ سیاسی نعروں کے غبارے اور سچ مچ کی پیشرفت میں کیا فرق ہوتا ہے۔

editor

Related Articles