گورنر شپ اور گورنر راج میں عہدہ نہ ملنے پر سیاسی جماعت کا سربراہ ناراض، محسن نقوی نے نام لیے بغیر آئینہ دکھا دیا

گورنر شپ اور گورنر راج میں عہدہ نہ ملنے پر سیاسی جماعت کا سربراہ ناراض، محسن نقوی نے نام لیے بغیر آئینہ دکھا دیا

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ  خیبر پختونخوا میں گورنر شپ اور گورنر راج کے انتظامی سیٹ اپ میں کردار نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کا سربراہ شدید ناراض ہے، جو کئی دہائیوں سے سیاست میں رہنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت پر انحصار کرتا رہا ہے۔

لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے سیاست دان کا نام لیے بغیر کہا کہ اس کی صورتحال یہ تھی کہ اس کی سیاسی جماعت کے ہوائی ٹکٹ تک اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے طے کیے جاتے تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسے سیاست دانوں کو آج دوسروں پر انگلیاں اٹھانا زیب نہیں دیتا۔ سیاسی اختلافات کا اظہار غیر مہذب زبان اور الزامات کے بجائے دلائل اور حقائق کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔

خیبر پختونخوا میں گزشتہ اتوار کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت کے اختیارات محدود ہو گئے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی سمری کی منظوری دی تھی۔ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کی سفارشات اور صوبے کی امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹس کی بنیاد پر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی نے سہیل آفریدی کیساتھ مذاکرات سے ایمرجنسی تک کی کہانی کھول دی، اچکزئی کو بھی کرارا جواب

نئے انتظامی سیٹ اپ کے تحت گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی وفاق کی جانب سے صوبائی حکومت کے امور انجام دیں گے، جن کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمنٹ استعمال کرے گی۔

محسن نقوی نے سابق فاٹا کے اضلاع کے وسائل سے متعلق بعض سیاسی رہنماؤں کے مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ آج بعض سیاسی رہنما سابق فاٹا کے اضلاع کے وسائل کے حوالے سے بہت فکر مند ہیں، لیکن جب کئی سال تک ان اضلاع کو ان کا جائز حصہ نہیں مل رہا تھا تو یہ لوگ خاموش کیوں رہے؟

وفاقی وزیر داخلہ نے سوال کیا کہ اس وقت سابق فاٹا کے عوام کے حقوق کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ سابق فاٹا کے عوام کے حقوق اور وسائل کا معاملہ سیاسی مفادات سے بالاتر رہنا چاہیے۔

صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا اس وقت سیکیورٹی کے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ بدامنی کو ہوا دینے اور انتشار پھیلانے کے بجائے امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے امن، استحکام اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے

Related Articles