عمران خان کی 14 سالہ’تعلیمی ایمرجنسی‘کا جنازہ نکل گیا، کے پی کے سکولز کھنڈرات، معصوم بچوں کی زندگیاں داؤ پر!

عمران خان کی 14 سالہ’تعلیمی ایمرجنسی‘کا جنازہ نکل گیا، کے پی کے سکولز کھنڈرات، معصوم بچوں کی زندگیاں داؤ پر!

 خیبر پختونخوا میں گزشتہ 14 سال سے جاری عمران خان کی نام نہاد تعلیمی ایمرجنسی اور اربوں روپے کے اشتہارات کے ذریعے ’تعلیمی انقلاب‘کے مسلسل دعووں کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ نوشہرہ کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول حصار تنگ اور گاؤں چشمئی (اکوڑہ خٹک) کے گرلز پرائمری سکول GGPS چشمئی کی زبوں حالی نے صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ سانحہ پشاور اور دیر کالونی جیسے خوفناک واقعات کے بعد ان خستہ حال سکولوں کی عمارات بچوں اور اساتذہ کے لیے خوف کی علامت بن چکی ہیں، جہاں معصوم طالبات اور طلبہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اکوڑہ خٹک کے گاؤں چشمئی میں واقع سرکاری گرلز پرائمری سکول کی عمارت انتہائی بوسیدہ اور خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ اہل علاقہ اور سکول انتظامیہ کے مطابق عمارت کی ہنگامی تعمیر و مرمت کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فی میل DEO (F) نوشہرہ کو متعدد بار تحریری درخواستیں دی جا چکی ہیں اور زبانی طور پر بھی بارہا آگاہ کیا گیا، مگر اب تک کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔

علاوہ ازیں مقامی افراد نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر خدانخواستہ GGPS چشمئی میں بھی کسی چھت یا دیوار کے گرنے سے کوئی بڑا حادثہ پیش آ گیا، تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ کیا اس کی ذمہ داری گاؤں کے بے بس لوگوں پر ہو گی، ان معصوم بچیوں پر جو وہاں تعلیم حاصل کرنے آتی ہیں، یا ان اساتذہ پر جو روز اپنی جان پر کھیل کر بچوں کو پڑھا رہے ہیں؟۔

عمارت کھنڈر، معصوم بچوں کی زندگیاں داؤ پر

نوشہرہ کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول حصار تنگ کے مناظر بھی حکومتی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سکول کی بصری صورتحال کے مطابق راہداریوں اور کلاس رومز کی چھتوں سے پلستر گر چکا ہے، سیم زدہ دیواریں اکھڑ رہی ہیں اور بجلی کا نظام مکمل طور پر ناکارہ اور ننگے تاروں کا روپ دھار چکا ہے۔

کمروں میں کھڑکیاں اور شیشے غائب ہیں، جبکہ چھتوں سے لٹکتے زنگ آلود پنکھے اور ہک کسی بھی وقت بڑے سانحے کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ اس تمام تر خوفناک ماحول کے باوجود بچے انہی خطرناک کمروں میں بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا پولیس شہدا کے لیے تاریخی ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا ، شہادت پر ایک کروڑ 70 لاکھ سے ساڑھے 3 کروڑ روپے تک معاوضہ

 مقامی شہری کا احتجاج: ’اربوں کے اشتہارات، مگر سکول لاوارث‘

سکول کا دورہ کرنے والے ایک مقامی شخص نے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی غفلت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت کے دور سے لے کر آج تک کسی بھی ذمہ دار یا متعلقہ حکام نے اس سکول کی طرف پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف میڈیا پر اربوں روپے کے اشتہارات چلا کر تعلیمی انقلاب کے دعوے کیے گئے، لیکن دوسری طرف عملی طور پر سکولوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے جہاں چھتیں اور دیواریں کسی بھی وقت گر سکتی ہیں۔

 دیر کالونی جیسے خونریز حادثے کا خدشہ

اہالیانِ علاقہ اور والدین نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر ان سکولوں کی تعمیر و مرمت نہ کی گئی تو یہ بھی دیر کالونی یا پشاور کے دلخراش حادثات کی طرح کسی بڑے تباہ کن سانحے کا سبب بن سکتے ہیں، جہاں عمارتیں گرنے سے معصوم بچوں کی قیمتی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔

نئی صوبائی انتظامیہ اور گورنر راج سے فوری اقدامات کا مطالبہ

صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے قیام کے بعد اہالیانِ علاقے اور والدین نے نئی صوبائی انتظامیہ، گورنر خیبر پختونخوا اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ سابق حکومت کے محض کاغذی دعووں اور اشتہار بازی سے نکل کر GGPS چشمئی اور حصار تنگ سکول کی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا حکم جاری کیا جائے تاکہ معصوم بچوں کا مستقبل اور ان کی زندگیاں محفوظ ہو سکیں۔

 پس منظر 

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے گزشتہ 14 سالہ دورِ اقتدار کے دوران تعلیم کے شعبے میں ’تعلیمی انقلاب‘اور ’تعلیمی ایمرجنسی‘کے نعرے انتہائی نمایاں رہے۔ حکومتی سطح پر یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ صوبے کے تمام سرکاری سکولوں کو جدید اور محفوظ بنا دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے اربوں روپے کے خطیر فنڈز خرچ کیے گئے۔ تاہم، نوشہرہ کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول حصار تنگ اور اکوڑہ خٹک کے GGPS چشمئی سمیت صوبے کے متعدد دیہی سکولوں کی موجودہ زبوں حالی ان دعووں کے برعکس تلخ زمینی حقائق کو بے نقاب کرتی ہے۔

Related Articles