مردان میڈیکل کمپلیکس میں مریضوں کو ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور ہسپتال کی خستہ حال سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے انتظامی امور میں بہتری اور طویل عرصے سے تعطل کا شکار کاموں کی تکمیل کے لیے اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے ادویات کی فراہمی کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جبکہ ہسپتال کی حدود میں سڑکوں اور راستوں کی تعمیر و مرمت کے لیے ٹینڈر بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
ہسپتال میں مریضوں کو ادویات کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے قائم کی گئی خصوصی کمیٹی پورے عمل کی خود نگرانی کرے گی۔ اس کے علاوہ ہسپتال کے اندر شدید خستہ حال سڑکوں اور راستوں کی ازسرنو تعمیر و مرمت کے لیے ٹینڈر جاری کیے گئے ہیں، جن کا مقصد مریضوں اور دیگر شہریوں کی آمدورفت کو آسان بنانا ہے۔
مردان میڈیکل کمپلیکس میں شروع کیے گئے ان اقدامات کو عوام کے لیے ریلیف قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ کارکردگی اور صحت کے شعبے میں حکومتی ترجیحات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
صحت کارڈ اور صحت کے نظام میں انقلاب کے دعوے کرنے والی پی ٹی آئی حکومت کے دور میں مردان جیسے اہم ضلع کے مرکزی ہسپتال کو ادویات کی قلت اور خستہ حال سڑکوں جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ ہسپتال کے اندر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہیں، جبکہ مریض بنیادی ادویات کے حصول کے لیے مشکلات سے دوچار رہے۔
تنقیدی مؤقف کے مطابق، اس دوران حکمرانوں کی توجہ مریضوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے بجائے سیاسی سرگرمیوں، دھرنوں اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مرکوز رہی۔
مردان میڈیکل کمپلیکس میں حالیہ اصلاحاتی اقدامات کے بعد یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ اگر ادویات کی فراہمی کے لیے کمیٹی کا قیام اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے ٹینڈر جاری کرنے جیسے انتظامی اقدامات ممکن تھے تو پی ٹی آئی کے نو سالہ دور میں یہ مسائل کیوں حل نہ کیے جا سکے؟
ان اقدامات کو پی ٹی آئی کے صحت کے نظام میں انقلاب کے دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ہسپتال میں ادویات کی فراہمی اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے لیے شروع ہونے والا عمل مریضوں کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔