ایک ہی سیارے پر آگ جیسی گرمی اور برف جیسی سردی، آخر کیوں

ایک ہی سیارے پر آگ جیسی گرمی اور برف جیسی سردی، آخر کیوں

عطارد ہمارے نظامِ شمسی کا سورج سے قریب ترین سیارہ ہے۔ حجم کے لحاظ سے یہ چاند سے کچھ بڑا ہے، لیکن اس کی سطح پر درجہ حرارت کی شدت اسے دیگر سیاروں سے منفرد بناتی ہے۔ یہاں دن کے وقت شدید گرمی پڑتی ہے، جبکہ رات ہوتے ہی درجہ حرارت انتہائی حد تک گر جاتا ہے۔

عطارد کی سطح پر دن کے وقت درجہ حرارت تقریباً 430 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ رات کے دوران یہ گر کر تقریباً منفی 180 ڈگری سیلسیئس تک جا سکتا ہے۔ یعنی ایک ہی سیارے پر ایسی شدید گرمی اور سردی دیکھنے کو ملتی ہے جو انسانی تصور سے بھی باہر محسوس ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں سائبر سیکیورٹی الرٹ، صارفین کو لوکیشن شیئرنگ میں احتیاط کی ہدایت

اس غیر معمولی فرق کی بنیادی وجہ عطارد کے گرد کسی گھنے فضائی غلاف کا نہ ہونا ہے۔ زمین کا ماحول گرمی کو کسی حد تک محفوظ رکھتا ہے، جس کی وجہ سے رات کے وقت درجہ حرارت اچانک انتہائی کم نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس عطارد پر سورج کی روشنی سے حاصل ہونے والی گرمی رات کے وقت تیزی سے خلا میں خارج ہوجاتی ہے، جس سے سطح شدید سرد ہوجاتی ہے۔

عطارد کی سطح بھی ہمارے چاند کی طرح پتھریلی ہے اور اس پر شہابی پتھروں کے ٹکرانے سے بننے والے بے شمار گڑھے موجود ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سورج کے انتہائی قریب ہونے کے باوجود اس سیارے کے بعض گہرے گڑھوں میں پانی کی برف بھی پائی گئی ہے۔ ان مقامات تک سورج کی روشنی نہیں پہنچتی، اس لیے وہاں کا درجہ حرارت اتنا کم رہتا ہے کہ برف طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہے۔

عطارد کی یہ خصوصیات ظاہر کرتی ہیں کہ سورج سے قربت کے باوجود کسی سیارے کی سطح پر انتہائی سرد ماحول بھی موجود ہوسکتا ہے۔

editor

Related Articles