فضل الرحمان کی ملتان تقریر سے مایوسی ہوئی، ان کے بغیر حکومت بن چکی، چلے گی بھی، فیصل کریم کنڈی کا چیلنج

فضل الرحمان کی ملتان تقریر سے مایوسی ہوئی، ان کے بغیر حکومت بن چکی، چلے گی بھی، فیصل کریم کنڈی کا چیلنج

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور امن و امان کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملتان میں کی گئی تقریر کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کہا کرتے تھے کہ وہ اپنے علاقے میں گھوم پھر نہیں سکتے اور وفاقی حکومت امن و امان کو کنٹرول نہیں کر رہی۔

یہ بھی پڑھیں:فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا پولیس شہدا کے لیے تاریخی ریلیف پیکیج کا اعلان کر دیا ، شہادت پر ایک کروڑ 70 لاکھ سے ساڑھے 3 کروڑ روپے تک معاوضہ

وہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ ان کے بغیر کوئی حکومت نہیں بنتی اور اگر بن جائے تو چلتی نہیں ہے؛ لیکن اب حکومت ان کے بغیر بن چکی ہے اور ان شاء اللہ کامیابی کے ساتھ چلے گی بھی۔

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خود محلات میں بیٹھ کر غریبوں کو جہاد کا درس دیا جاتا ہے اور جو اپنے پاس آئے صرف اسے حلال سمجھا جاتا ہے۔

اس سب کے باوجود گورنر نے فضل الرحمان کو ایک اچھا سیاست دان قرار دیتے ہوئے انہیں صوبے کے امن و ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی باضابطہ دعوت بھی دی۔

سابقہ صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جن لوگوں نے صوبے کو تباہ کیا، ان کا چیپٹر اب ہمیشہ کے لیے کلوز ہو چکا ہے۔

پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی دہشتگردی کے خلاف کارکردگی صفر تھی اور ایسا لگتا تھا جیسے ان کے فیصلے اور ہدایات کابل یا افغانستان سے آتی تھیں۔ یہ لوگ معدنیات نکالنے کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں تاکہ صوبہ ترقی نہ کر سکے۔

مولانا جو معدنیات کی باتیں کر رہے ہیں تو معدنیات نکالنے کے لیے ہی ہوتی ہیں، میں انٹرنیشنل کمپنیوں سے کہتا ہوں کہ وہ یہاں آئیں اور کام کریں تاکہ ہمارے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار مہیا ہو۔

ایک اہم اور سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مراد سعید افغانستان میں ہی موجود ہیں، وہ عمران خان کا طوطا تھے اور عمران خان کی جان اسی طوطے میں بستی ہے، اگر وہ پکڑے گئے تو پھر پی ٹی آئی کا کیا ہوگا؟

امن و امان، سیکیورٹی پیکیج اور وفاق سے تعاون

گورنر کے پی نے واضح کیا کہ امن و امان ہماری اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ اس وقت بلوچستان حکومت بھی وفاق کے شانہ بشانہ دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان تمام فاصلے ختم ہو چکے ہیں اور دونوں ایک اکائی کے طور پر مل کر کام کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کے پی کا دورہ کر کے کے پی پولیس کو 10 گاڑیاں دی ہیں اور آئی جی سے مزید ضروریات طلب کی ہیں۔

پچھلے 10 سال سے پولیس اور ڈاکٹروں کی تنخواہیں نہیں بڑھ رہی تھیں، تاہم اب پولیس کو سیکیورٹی پیکیج دے دیا گیا ہے اور تنخواہوں کا نیا پیکیج بھی جلد دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبے کے 10 سے 12 اضلاح کو ’ماڈل سیکیورٹی اضلاع‘ میں ڈھالا جائے گا۔

شعبہ صحت کی بہتری اور اداروں کی مضبوطی

طبی شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے زور دیا کہ محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ صوبے کے مختلف اور دور دراز اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹرز کی تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب ادارے مضبوط ہوں گے تو صوبہ خود بخود مضبوط ہوگا، لہٰذا تمام اداروں کی ازسرنو کیلیبریشن کی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کے انتظامی محاذ پر وفاق اور صوبائی نمائندوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اب سخت اور یکسو حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

طویل عرصے سے سیکیورٹی خدشات اور سیاسی محاذ آرائی کا شکار رہنے والے اس صوبے میں پولیس کی اپ گریڈیشن اور ماڈل سیکیورٹی اضلاع کا قیام امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاہم، سیاسی حریفوں پر سخت تنقید کے ساتھ ساتھ اپوزیشن رہنماؤں کو ساتھ مل کر کام کرنے کی پیشکش اس انتظامی سوچ کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک طرف بدامنی کے اسباب کا قلع قمع کرنا مقصد ہے اور دوسری طرف تمام سیاسی دھاروں کو صوبائی ترقی کے ایجنڈے پر یکجا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Related Articles