وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے انسداد دہشت گردی کے معاملے پر عدم تعاون کے باعث وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے پر مجبور ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق نے اختلافات دور کرنے کے لیے متعدد کوششیں کیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور ان کے پیشرو علی امین گنڈاپور سے ملاقاتیں کیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات کے لیے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی، تاہم ان کوششوں کے باوجود صورتحال میں بہتری نہ آسکی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز گوجرانوالہ میں مرحوم رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کے انتقال پر ان کے صاحبزادے راشد بشیر ورک سے تعزیت کی۔ اس موقع پر انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے مرحوم رہنما کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے پر بھی گفتگو کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، لیکن صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باعث وفاق کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے اس معاملے پر آخری کوشش کے طور پر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور حکومت و پاکستان پیپلز پارٹی کے مشترکہ وفد نے اپوزیشن کے ساتھ متعدد ادوار میں بات چیت کی، تاہم 3 اکتوبر کو ہونے والے طویل مذاکرات بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور ان کے پیشرو علی امین گنڈاپور کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔ ہر ملاقات میں انہوں نے سنجیدگی کے ساتھ یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا انتہائی خوبصورت صوبہ ہے، جہاں کے عوام بہادر اور باوقار ہیں، اور وفاق ان کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔
وزیراعظم کے مطابق انہوں نے صوبائی حکومت کو یقین دلایا تھا کہ وفاق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے ساتھ کھڑا ہوگا اور صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ انتظامی معاملات، وسائل اور ضروریات سے متعلق فیصلے وزیراعلیٰ کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان تمام کوششوں کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکار، فوجی اور مسلح افواج کے افسران وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبے کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بہت سی کوششیں کیں، لیکن اس کے جواب میں آئے روز دھمکیوں اور لانگ مارچ کی باتیں سامنے آتی رہیں۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ماضی کے احتجاجی طرزعمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جماعت کی سابقہ تاریخ انتہائی تلخ رہی ہے۔
شہباز شریف نے 2014ء میں اسلام آباد کے ڈی چوک پر پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کا ذکر کیا، جو نواز شریف کے دور حکومت میں دیا گیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ سال اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے کا بھی حوالہ دیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں نظام زندگی متاثر ہوا اور مظاہرین و سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی کوششوں سے مبینہ طور پر دانستہ لاتعلقی اختیار کرنا قرار دیا تھا۔ بعد ازاں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے بھی اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود اس فیصلے کی توثیق کردی۔
وفاقی وزرا اس سے قبل الزام عائد کر چکے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان گٹھ جوڑ ہے، جبکہ صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال ایمرجنسی کے نفاذ کی متقاضی تھی۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ اسے خیبر پختونخوا سے متعلق وفاقی انسداد دہشت گردی پالیسی کے فیصلوں میں شامل نہیں کیا جا رہا۔ وفاقی حکومت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے غلط اور گمراہ کن قرار دیا تھا۔
وفاق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ انسداد دہشت گردی کی پالیسی بھی رہی ہے۔ تحریک انصاف نے اس پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا، جبکہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کی کوششوں اور افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اس کے مؤقف پر تنقید کی۔
وفاق اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات بھی 3 اکتوبر کو ناکام ہوگئے تھے۔ ان مذاکرات میں عمران خان تک رسائی سمیت مختلف امور پر اختلافات سامنے آئے۔ یہ سیاسی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی تھی جب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
