عمران خان اور برادر اسلامی ملک سے متعلق جھوٹی خبر کا بھانڈا پھوٹ گیا

عمران خان اور برادر اسلامی ملک سے متعلق جھوٹی خبر کا بھانڈا پھوٹ گیا

سوشل میڈیا پر عمران خان کے حوالے سے ایک برادر اسلامی ملک کی جانب سے حکومت پاکستان کو سیاسی معاملات حل کرنے کی درخواست دینے سے متعلق دعویٰ زیرِ بحث ہے، اس معاملے میں اے آر وائی نیوز کے پروگرام اور تحقیقاتی صحافی نعیم اشرف بٹ سے منسوب بیان کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔
دعویٰ کیا ہے؟
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک برادر اسلامی ملک نے حکومت پاکستان سے عمران خان سے متعلق سیاسی معاملات حل کرنے کے لیے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے اور اس معاملے میں مداخلت کی درخواست کی ہے۔

حقائق کیا کہتے ہیں؟

اے آر وائی نیوز کی 24 ستمبر 2026 کی ایک رپورٹ میں نعیم اشرف بٹ نے عمران خان کی رہائی سے متعلق معاملات اور تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے درمیان فرق بیان کیا تھا۔
تاہم، اس رپورٹ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی برادر اسلامی ملک نے حکومت پاکستان سے عمران خان کے سیاسی معاملات حل کرنے کے لیے باضابطہ درخواست کی تھی۔

اسی طرح پاکستان کی وزارت خارجہ کی دستیاب پریس ریلیز میں بھی اس مخصوص دعوے کی تصدیق نہیں ملتی اس لیے اس طرح کی چلنے والی خبر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے

دعویٰ کہاں تک درست ہے؟

دستیاب شواہد کی بنیاد پر برادر اسلامی ملک کی جانب سے حکومت پاکستان کو عمران خان کے معاملے پر باضابطہ درخواست دینے کا دعویٰ غیر مصدقہ ہے ۔

حتمی نتیجہ

اس وقت اس دعوے کو درست قرار دینے کے لیے قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔ لہٰذا اسے مصدقہ خبر کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا،عوام بھی ایسی بےبنیاد خبریں آگے پھیلانے سے گریز کریں  ۔

editor

Related Articles