صوبائی دارالحکومت لاہور شہر میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق شہر کے بازاروں اور مارکیٹوں میں آٹا، گھی، تیل، دالیں، چاول، سبزیاں، پھل اور دودھ سمیت تمام بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کا روزمرہ کا گزر بسر کرنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق لاہور کے بازاروں میں دال ماش کی قیمت بڑھ کر 440 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جبکہ دال چنا بھی مہنگے داموں یعنی تقریباً 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے ، اسی طرح شہر میں درجہ اول کا گھی اور کوکنگ آئل 615 روپے جبکہ درجہ دوم کا گھی اور کوکنگ آئل 550 روپے فی لیٹر تک فروخت ہو رہا ہے، جس سے عام صارف کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔
سرکاری نرخناموں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دودھ مقررہ قیمت (170 روپے) کے برعکس کھلے عام 210 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ دہی کی قیمت بھی 230 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور میں 17 روپے کی فروخت ہونے والی روٹی 3 روپے اضافے کے بعد 20 روپے میں بیچی جارہی ہے ، شہریوں کا کہنا ہے کہ روٹی 3 روپے مہنگی ہونے کے ساتھ اس کے آٹے کے پیڑے کا وزن بھی کم کردیا گیا ہے۔
اس حوالے سے تندور مالکان کا کہنا ہے کہ آٹے کے ساتھ میدے کی بوری بھی مہنگی ہوگئی ہے اور آٹا ہر ہفتے مہنگا ہو رہا ہے، اس پر ہم کیا کرسکتے ہیں۔
وفاقی ادارہ شماریات اور معاشی رپورٹس کے مطابق ملک میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح دوہرے ہندسے میں یعنی تقریباً 10.3 فیصد سے 11 فیصد کے درمیان ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
موجودہ معاشی صورتحال کے باعث روٹی، گوشت اور آٹے جیسی بنیادی اشیاء بھی اب عام شہریوں کی قوت خرید اور پہنچ سے بالکل باہر ہو چکی ہیں ، تنخواہ دار طبقہ اور دیہاڑی دار مزدور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے شدید پریشانی اور کسمپرسی کی حالت میں مبتلا ہیں۔
مہنگائی کے اس طوفان نے غریب اور متوسط طبقے کے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے ، شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں پر ضلعی انتظامیہ کا کوئی مؤثر کنٹرول نظر نہیں آتا، جس کا خمیازہ عوام کو مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لاہور کی مارکیٹوں میں سب سے بڑا مسئلہ سرکاری نرخناموں کا پر عمل درآمد نہ ہونا ہے، دکاندار اور پرچون فروش من مانے داموں اشیاء فروخت کر رہے ہیں جس نے غریب اور متوسط طبقے کا بجٹ درہم برہم کر دیا ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گرانی کے اس جن کو قابو میں لایا جائے، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے، اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ کے اندر لانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو اس معاشی عذاب سے نجات مل سکے۔