صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے لوئے شلمان سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 13 سالہ دورِ اقتدار میں تعلیمی اصلاحات اور اسکولوں کی تعمیر و ترقی کے دعوؤں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کی عمارت اس قدر بوسیدہ ہو چکی ہے کہ وہ انسانوں کی درسگاہ کے بجائے کھنڈرات اور جانوروں کی آماجگاہ کا منظر پیش کر رہی ہے۔
🚨پی ٹی آئی کی نااہلی بے نقاب، خیبرپختونخوا کے علاقے لنڈی کوتل کے لوئے شلمان میں گرلز پرائمری اسکول کی عمارت خستہ حالی کا شکار، طالبات کو حادثے کا خدشہ https://t.co/HatwoyHQvP
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) October 18, 2026
وزیراعلیٰ کے عہدے پر براجمان سہیل آفریدی کے اپنے ضلع خیبر کے دور افتادہ علاقے لوئے شلمان، شین پوخ، ملک امروز کلی میں واقع یہ گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول حکومتی بے حسی کی کھلی داستان بیان کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’ہری پور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک اسکولوں کی انتہائی خستہ حالی، نئی انتظامیہ کا سروے شروع
کئی کنال رقبے پر پھیلے یہ اسکول بنیادی سہولیات اور دیکھ بھال سے محروم ہو کر مکمل طور پر کھنڈر بن چکے ہیں۔
عمارت کی دیواریں اور چھتیں اس حد تک بوسیدہ ہیں کہ کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار اور دردناک حادثہ پیش آ سکتا ہے، جس کے باعث معصوم طالبات کا تعلیمی مستقبل اور زندگی دونوں شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت پر تنقید اور عوام کا مطالبہ
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے 13 سالہ سیاہ ترین دورِ اقتدار میں تعلیمی ایمرجنسی کے بڑے بڑے نعرے تو لگائے گئے لیکن گراؤنڈ پر صورتحال اس کے بالکل برعکس رہی اور حکمران اس سنگین مسئلے پر ٹس سے مس نہ ہوئے۔
پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد علاقے کے عوام نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔
علاقہ مکینوں نے درخواست کی ہے کہ اسکول کی عمارت کی فوری مرمت اور دیگر ضروری تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ طالبات محفوظ اور پرسکون ماحول میں اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
سابقہ حکومت کی نا اہلی کا نتیجہ، خیبرپختونخوا میں سرکاری سکولوں کی خستہ حالی، عمارتیں کھنڈر بن گئیں جبکہ فرنیچر، صاف پانی اور چھتوں جیسی بنیادی سہولیات غائب ہیں۔ والدین اور علاقہ مکینوں کا سکولوں کی فوری بحالی اور تعمیرِ نو کا مطالبہ۔۔ https://t.co/xa8Ye6VUR7
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) October 18, 2026


