والد کے انتقال کے بعد دانش اسکول نے سہارا دیا، علینہ نے ڈاکٹر بن کر خواب حقیقت میں بدل دیا

والد کے انتقال کے بعد دانش اسکول نے سہارا دیا، علینہ نے ڈاکٹر بن کر خواب حقیقت میں بدل دیا

جب بچپن میں ہی سر سے باپ کا شفقت بھرا سایہ اٹھ جائے، تو زندگی اچانک اندھیروں میں ڈوبتے محسوس ہوتی ہے ، اکثر لوگ حالات کے دھارے میں بہہ کر گھٹنے ٹیک دیتے ہیں، لیکن کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو پتھروں کا سینہ چیر کر نکلتی ہیں اور دنیا کو بتاتی ہیں کہ اگر ارادے سچے ہوں اور مواقع میسر ہوں  تو کوئی مشکل کامیابی سے روک نہیں سکتی۔

اگر خوابوں کو دانش اسکول جیسے اداروں کا سہارا اور بہترین تعلیمی ماحول مل جائے، تو نامساعد حالات بھی کامیابی کی راہ نہیں روک سکتے ،  ایک درزی کے گھرانے سے تعلق رکھنے والی علینہ کا دانش اسکول حاصل پور سے لے کر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی تک کا یہ شاندار سفر اس بات کی روشن دلیل ہے کہ “تعلیم سے تعمیر” کا سفر کس طرح ایک انسان کی تقدیر بدل دیتا ہے۔

والد کا سایہ اٹھا تو دانش اسکول سہارا بنا

ڈاکٹر علینہ کی زندگی میں کٹھن حالات اس وقت آئے جب  ان کے والد اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور ان کے خاندان پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ،  تعلیمی اخراجات اور مستقبل کے خدشات نے گھیراؤ کر لیا مگر ایسے ناگفتہ بہ حالات میں پنجاب کا دانش اسکول ان کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے تعلیمی وژن نے اس بے سہارا بچی کے سر پر دستِ شفقت رکھا ،  دانش اسکول نے علینہ کو نہ صرف بہترین اور معیاری تعلیم فراہم کی، بلکہ ان کے رہنے، کھانے اور پڑھائی کے تمام اخراجات کی ذمہ داری اٹھا کر ان کے خوابوں کو نئی پرواز دی۔

ڈاکٹر علینہ نے دانش سکول کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ ان کی زندگی میں وزیراعظم شہبازشریف نے ہی والد کا کردار نبھایا اور ہر وہ سہولت جو والد اپنی بیٹی کو دیتے ہیں وہ دانش سکول کی بدولت انہیں ملا، وہ وزیراعظم کی شکرگزار ہیں جہاں انہوں نے پمارے خواب کو پورا کیا ۔

دانش اسکول سے کنگ ایڈورڈ کا تاریخی سفر

دانش اسکول کے تعلیمی ماحول، اساتذہ کی شفقت اور اپنی انتھک محنت کے بل بوتے پر علینہ نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ،  انہوں نے دن رات ایک کر کے پڑھائی کی اور آخر کار وہ کر دکھایا جس کا لوگ صرف خواب دیکھتے ہیں  ، علینہ نے پاکستان کے سب سے معتبر اور تاریخی طبی ادارے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں اوپن میرٹ پر اپنا مقام بنایا ، یہ محض ایک داخلہ نہیں تھا، بلکہ دانش اسکول کے اساتذہ اور اس تعلیمی نظام کی فتح تھی جس نے ایک غریب اور یتیم بچی کو ملک کی بہترین یونیورسٹی تک پہنچایا۔

دانش اسکول کی تاریخ کی پہلی ڈاکٹر

سالوں کی مسلسل محنت اور جدوجہد کے بعد، علینہ نے کنگ ایڈورڈ سے اپنی ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کر لی ہے اور وہ ہاوس جاب کررہی ہیں ،  اس کامیابی کے ساتھ ہی ڈاکٹر علینہ دانش اسکول کی پہلی ڈاکٹر بننے کا اعزاز بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔

ان کی اس کامیابی نے  یہ ثابت کر دیا کہ اگر محروم طبقات کے بچوں کو مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ دنیا کی کسی بھی دوڑ میں پیچھے نہیں رہتے اور دانش اسکول کی بدولت آج علینہ اور اس جیسے دوسرے بچے اپنے خوابوں کو پورا کرنے کیلئے انتھک محنت کررہے ہیں ۔

خواب سے تعبیر اور تعلیم سے تعمیر کی روشن مثال

ڈاکٹر علینہ کا یہ سفر یہ پیغام دیتا ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو کسی بھی انسان کی تقدیر بدل سکتا ہے ،  آج سوشل میڈیا اور تعلیمی حلقوں میں ڈاکٹر علینہ کی اس شاندار کامیابی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دانش اسکول کا جال پورے ملک میں پھیلے گا، کوئی پختون، بلوچی، سندھی، پنجابی، کشمیری تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اعلان

ڈاکٹر علینہ کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ دانش اسکول جیسے منصوبے غریب بچوں کا مستقبل سنوارنے میں کتنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر علینہ کی یہ داستانِ کامیابی ان ہزاروں بچوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو سخت حالات میں بھی اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

editor

Related Articles