دانش اسکول کا جال پورے ملک میں پھیلے گا، کوئی پختون، بلوچی، سندھی، پنجابی، کشمیری تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اعلان

دانش اسکول کا جال پورے ملک میں پھیلے گا، کوئی پختون، بلوچی، سندھی، پنجابی، کشمیری تعلیم سے محروم نہیں رہے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ غریب اور ذہین بچوں کو مساوی تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے دانش اسکولوں کا جال پورے ملک میں پھیلایا جائے گا، اب کوئی پختون، بلوچی، سندھی، پنجابی یا کشمیری معیاری تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔

انہوں نے اشرافیہ اور عام آدمی کے بچوں کے درمیان تعلیمی تفریق پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست ماں کی حیثیت سے ہر بچے کو انصاف اور مساوی حقوق فراہم کرنے کی پابند ہے، اس وقت پورے ملک میں 27 ’دانش اسکول‘ زیر تعمیر ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ’دانش اسکول‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب دانش اسکول کا جال پورے ملک میں پھیلایا جائے گا تاکہ تعلیم سے کوئی بھی بچہ محروم نہ رہ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:صدر آصف زرداری سے شہبازشریف کی ملاقات، سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے کہاکہ چاہے کوئی پنجابی، سندھی، بلوچی، کشمیری یا پختون ہے، ہم سب ایک قوم ہیں اور ایک قوم کی حیثیت سے سب کو مساوی انصاف دینا اس ریاست ماں کا بنیادی فرض ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی حقیقی ترقی کے لیے معیاری تعلیم اور مساوی مواقعوں کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔

وزیراعظم نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک کم عمر اور غریب بیٹی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھی کہ وہ ایک محنتی اور علم دوست باپ کی بیٹی ہے، لیکن وسائل کی کمی اس کے راستے کی سب سے بڑی دیوار تھی۔

یہ بھی پڑھیں:سیاسی یتیمی اور اقتدار کی ہوس نے فضل الرحمن کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا، پاک افواج کیخلاف ہرزہ سرائی برداشت نہیں ! سرگودھا کے شہریوں کا شدید ردِعمل

انہوں نے کہا کہ ملک کے لاکھوں نوجوان لڑکے لڑکیاں جو غیر معمولی ذہانت کے حامل ہیں، محض مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔

ان کے والدین محنت کش ہیں جو کھیتوں، کھلیانوں اور کارخانوں میں دن رات محنت کرتے ہیں لیکن شدید گرمی یا سردی کی پروا کیے بغیر حلال روزی کمانے کے باوجود دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔

اشرافیہ کے تعلیمی ادارے

وزیراعظم نے اس تفاوت پر سوال اٹھایا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ امیر اور با اثر طبقے کے بچے، چاہے وہ وزرائے اعظم، گورنروں، اعلیٰ افسران، ججوں یا جاگیرداروں کے ہوں، ’ایچی سن کالج‘ کے آہنی دروازوں سے باآسانی داخل ہو جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں غریب بچے جو چاروں صوبوں، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں، معیاری تعلیم کے حصول کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اسی وژن کے تحت انہوں نے 2010 میں پنجاب میں اس مادرِ علمی کی بنیاد رکھی تھی تاکہ تعلیم کا معیار ایچی سن کالج سے بھی بہتر یا کم از کم اس کے برابر ہو سکے۔

بہاولپور سے تعلق رکھنے والی یتیم ڈاکٹر بیٹی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تقدیر ایسی ہونی چاہیے جو ہر خاص و عام کو مساوی مواقع فراہم کرے۔

قائد اعظم کے خواب کا پاکستان اور خود احتسابی کا لمحہ

وزیراعظم نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگر غریب بچے کیچڑ بھری گلیوں میں اپنا وقت ضائع کر دیں تو کیا یہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا پاکستان کہلانے کا حق رکھتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ جب 1947 میں لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کی تھی تو انہوں نے اس امید پر سب کچھ چھوڑا تھا کہ یہاں انصاف اور مساوات کا دور دورہ ہوگا، لیکن آج 7 دہائیوں بعد ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج ملک کا امیر ترین طبقہ اپنے بچوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ شمالی امریکا اور جنوبی فرانس تک پڑھنے کے لیے بھیجنے کی استطاعت رکھتا ہے، جبکہ غریب کا بچہ بنیادی تعلیم سے بھی محروم ہے۔

پاکستان میں تعلیمی نظام طویل عرصے سے دہرے معیار کا شکار رہا ہے جہاں سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور اشرافیہ کے لیے مخصوص نجی تعلیمی ادارے عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔اس طبقاتی خلیج نے غریب اور ہونہار طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔

مزید پڑھیں:سہیل آفریدی کے اپنے ضلع کے اسکولوں کی خستہ حالی نے سارے دعوے ملیامیٹ کردیے، سنسنی خیز ویڈیو وائرل

اسی پس منظر میں 2010 میں پنجاب حکومت کی جانب سے ’دانش اسکول‘ کا نظام متعارف کروایا گیا تھا جس کا مقصد دور دراز علاقوں کے غریب، نادار اور یتیم بچوں کو رہائشی سہولیات کے ساتھ اعلیٰ درجے کی مفت تعلیم فراہم کرنا تھا۔

وزیراعظم کا دانش اسکولوں کے نیٹ ورک کو ملک بھر میں پھیلانے کا اعلان ایک انتہائی خوش آئند اور فلاحی قدم ہے، لیکن اس کے نفاذ میں پائیداری اور شفافیت کو یقینی بنانا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

پاکستان جیسے ترقی جہاں وسائل کی کمی اور بجٹ کے محدود فنڈز ایک مستقل مسئلہ ہیں، ملک بھر میں ایسے اعلیٰ معیار کے رہائشی اسکول قائم کرنا اور انہیں چلانا کٹھن اور طویل مدتی ہدف ہے۔

Related Articles