لنڈی کوتل کے لوئے شلمان میں سرکاری گرلز پرائمری سکول کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا

لنڈی کوتل کے لوئے شلمان میں سرکاری گرلز پرائمری سکول کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا

 لنڈی کوتل کا سرکاری گرلز پرائمری سکول حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان، 13 سالہ پی ٹی آئی دور کے بعد بھی تعلیمی عمارتیں خستہ حالی کا شکارخیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے لوئے شلمان میں قائم سرکاری گرلز پرائمری سکول کی خستہ حال عمارت نے ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی سہولتوں کی فراہمی اور ترقیاتی کاموں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 

سکول کی موجودہ حالت اس سوال کو نمایاں کرتی ہے کہ قبائلی اضلاع کے انضمام سے پہلے اور اس کے بعد طالبات کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی طور پر کتنے اقدامات کیے گئے۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور اس کے سیاسی تسلسل کو تقریباً 13 سال ہو  گزرے  اس طویل عرصے کے دوران تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کی بہتری کے وعدے کیے جاتے رہے، لیکن لوئے شلمان کے اس سرکاری سکول کی خستہ حالی ان وعدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کی ضرورت اجاگر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :تبدیلی کے نام پر تباہی، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی ایک سالہ ناقص کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری

 قبائلی اضلاع کا خیبر پختونخوا میں انضمام ایک اہم انتظامی اور آئینی تبدیلی تھی  اس اقدام کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ علاقے کے عوام کو صوبے کے دیگر حصوں کی طرح بہتر تعلیمی ادارے، صحت کی سہولتیں، سڑکیں اور بنیادی خدمات میسر آئیں گی۔

تاہم انضمام کے تقریباً آٹھ سال بعد بھی ایسے تعلیمی اداروں کی حالت یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات دور دراز علاقوں تک کس حد تک پہنچے۔
لوئے شلمان کے گرلز پرائمری سکول کی عمارت کی حالت محض ایک عمارت کا مسئلہ نہیں، بلکہ طالبات کے لیے محفوظ اور مناسب تعلیمی ماحول کی فراہمی سے جڑا معاملہ ہے۔

سرکاری سکولوں کی عمارتیں اگر ضروری مرمت اور دیکھ بھال سے محروم رہیں تو اس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیم اور حاضری پر پڑ سکتا ہے۔
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہی ہے  اس لیے صوبے میں تعلیمی اداروں کی حالت، ترقیاتی بجٹ کے استعمال اور دور دراز علاقوں میں سہولتوں کی فراہمی سے متعلق سوالات اس کی سابقہ اور موجودہ قیادت سے بھی کیے جا سکتے ہیں۔

اگر کسی علاقے میں سرکاری گرلز پرائمری سکول کی عمارت اب بھی خستہ حال ہے تو متعلقہ حکام کو واضح کرنا چاہیے کہ اس کی مرمت یا ازسرنو تعمیر کے لیے کیا منصوبہ بندی کی گئی، کتنے فنڈز مختص ہوئے اور ان پر کتنا عمل درآمد ہوا  اسی طرح یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص ترقیاتی وسائل سے مقامی تعلیمی اداروں کو کتنا فائدہ پہنچا۔

لوئے شلمان کے سکول کی حالت متعلقہ محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کی توجہ کی متقاضی ہے، حکام کو عمارت کا فوری معائنہ کر کے اس کی حفاظت کا جائزہ لینا چاہیے اور ضرورت کے مطابق مرمت یا نئی عمارت کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

علاقے کے عوام کے لیے اصل اہمیت سیاسی بیانات کی نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ ان کی بچیوں کو محفوظ عمارت، بنیادی سہولتوں اور بہتر تعلیمی ماحول میں پڑھنے کا موقع ملے۔
انضمام کے بعد ترقی کے وعدوں اور پی ٹی آئی کے طویل دورِ حکومت کی کارکردگی کا مؤثر جائزہ بھی اسی وقت ممکن ہے جب سرکاری سکولوں کی حالت، مختص فنڈز اور مکمل کیے گئے منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔

editor

Related Articles