تبدیلی کے نام پر تباہی، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی ایک سالہ ناقص کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری

تبدیلی کے نام پر تباہی، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی ایک سالہ ناقص کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری

کوآرڈینیٹر کے پی اور رہنما مسلم لیگ ن اختیار ولی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کی لاپرواہی سب کے سامنے ہے ، خیبرپختونخوا میں دہشتگردی اور بدانتظامی عروج پر ہے ، یہ لوگ دہشتگردوں کے سہولت کار بن گئے ہیں ۔

کوآرڈینیٹر کے پی اور رہنما مسلم لیگ ن اختیار ولی نے ثمر بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا حکومت کے ایک سالہ کارکردگی کا کچا چٹھا کھول دیا ۔

ان کاکہنا تھا کہ  خیبرہختونخوا میں دہشتگردوں کے حملوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ، صرف جنوری 2025 سے 2026 تک پولیس کے جوان 93 فیصد شہادتوں کی تعداد ہے ، زخمیوں کی تعداد میں 108 فیصد اور دہشتگردی کے حملوں میں 33.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق 2025 میں 63 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ 2026 میں اب تک یہ تعداد 122 ہوچکی ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ کے پی پولیس سی ٹی ڈی کو اسلحہ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔

اسمگلنگ میں اضافہ 

اختیار ولی خان نے کہا کہ مختلف اداروں سے اعدادوشمار کی تصدیق کرائی گئی ہے۔ اسمگلنگ اور منشیات کے سوداگروں کے درمیان کٹھ جوڑ ہے، جبکہ شہدا کے جنازوں میں عدم شرکت ریاست سے لاتعلقی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت بالواسطہ یا بلاواسطہ جرائم پیشہ افراد کی سہولتکاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مثالی حکومت اور مثالی پولیس کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم زمینی حقائق مختلف ہیں۔

ثمر بلور  نے کہا کہ پی ٹی آئی دیشتگردی جے واقعات کی مذمت نہیں کرتی ، صوبے میں امن کا گراف گر رہا ہے، صوبے میں اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہےہیروئن ، افیون اور چرس کہا ں سے آرہی ہے ؟ یہ ہمارے بچوں کے اسکولز میں جارہی ہے اور پور ے ملک میں پھیلائی جارہی ہے ، یہ کس قسم کی حکومت ہے ، انہوں نے ڈرگ پالیسی بنائی جس کا ٹارگٹ ابھی تک پورا نہیں ہوسکا ۔

انہوں نے کہا کہ 18 ستمبر کو پولیس لائن پر حملے میں 20 افراد شہید اور 35 زخمی ہوئے، جبکہ سہیل آفریدی کے دور میں پولیس پر یہ 10واں حملہ تھا۔ اس دوران وزیراعلیٰ لاہور میں ٹک ٹاک بناتے رہے جبکہ خیبرپختونخوا کے لوگ مر رہے تھے، وزیراعلیٰ صرف زخمیوں کو دیکھنے گئے، شہدا کے گھروں میں نہیں گئے، تاہم وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ ان کے گھروں میں گئے۔

پولیس کا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال 

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ اس کے بعد اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کا اعلان کیا گیا اور بیان دیا گیا کہ کسی کے باپ میں بھی جرأت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں خیبرپختونخوا پولیس کا کوئی ثانی نہیں، لیکن صوبائی حکومت نے نیا پولیس ایکٹ نافذ کردیا، جس پر سوال اٹھایا جانا چاہیے کہ یہ ایکٹ کیوں منظور کیا گیا۔

ان کے مطابق یہ ایکٹ پولیس کا مورال ڈاؤن کرنے اور پولیس میں سیاسی مداخلت کے لیے لایا گیا ہے، حالانکہ پولیس کو غیر سیاسی رہ کر فیصلے کرنا ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ موجودہ حالات میں پولیس کو ڈی مورالائز کرنا کیوں ضروری ہے؟

ایپکس کمیٹی اجلاس 

ثمر ہارون بلور نے کہا کہ ہم سیاسی جماعت کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے عوام کی ترجمانی کے لیے آئے ہیں ،  سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے 112 دن بعد پہلی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جبکہ ان کے دور میں اب تک انہوں نے صرف ایک اجلاس کی صدارت کی، اس عرصے کے دوران اپیکس کمیٹی کے 4 اجلاس ہوئے۔

وائٹ پیپر کے نکات 

وائٹ پیپر کے مطابق سی ٹی ڈی کے آلات کی خریداری کے لیے 7 ارب 77 کروڑ روپے منظور کیے گئے، جن میں سے جون 2026 تک 7 ارب 5 کروڑ روپے جاری کیے جاچکے تھے، جبکہ 72 کروڑ روپے کا فرق برقرار رہا۔ رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ فنڈز کے اجرا کے بعد آلات کی فراہمی اور ان کے عملی استعمال کی تفصیلات کیا ہیں۔

رپورٹ میں دسمبر 2025 کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی کی 3 ہزار 844 منظور شدہ آسامیوں کے مقابلے میں 3 ہزار 113 اہلکار تعینات تھے، جبکہ تقریباً 19 فیصد آسامیاں خالی تھیں۔

وائٹ پیپر کے مطابق جون 2026 تک سی ٹی ڈی کے 638 فیلڈ آپریٹرز کی خالی آسامیوں پر بھرتی بھی مکمل نہیں ہوسکی، جس کے باعث خصوصی نفری کی کمی برقرار رہی۔

سی ٹی ڈی کی حفاظتی صلاحیت سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں 17، پنجاب میں 76 اور بلوچستان میں 42 بلٹ پروف گاڑیاں رپورٹ ہوئیں۔

رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 تک خیبر پختونخوا سی ٹی ڈی کے پاس مطلوبہ 200 ایم فور رائفلوں کے مقابلے میں صرف 9 رائفلیں دستیاب تھیں، جو ضرورت کا 4.5 فیصد بنتی ہیں۔ اسی طرح 35 مطلوبہ نائٹ ویژن آلات کے مقابلے میں صرف 11 دستیاب تھے، جو ضرورت کا تقریباً 31.4 فیصد ہے۔

وائٹ پیپر میں جولائی 2026 میں ایک زخمی پولیس افسر کی جانب سے بہتر ہتھیاروں کی اپیل کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور فرنٹ لائن نفری کو موزوں سازوسامان کی بروقت فراہمی پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

منشیات کے خلاف کارروائیوں سے متعلق وائٹ پیپر میں بتایا گیا ہے کہ جنوری سے مارچ 2026 کے دوران پولیس کارروائیوں میں 5 ہزار 695 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔ اسی عرصے میں 847 کلوگرام آئس، 210 کلوگرام ہیروئن اور 275 کلوگرام افیون بھی پکڑی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 میں پشاور میں 960 کلوگرام منشیات کی کھیپ پکڑی گئی، جس سے صوبائی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر منشیات کی ترسیل کا معاملہ سامنے آیا،  اسی ماہ پشاور میں دو مبینہ مصنوعی منشیات ساز مراکز پر بھی چھاپے مارے گئے، جبکہ مقامی سپلائرز اور مالی سرپرستوں کے حوالے سے تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

وائٹ پیپر کے مطابق جون 2026 کے بجٹ ریکارڈ میں منشیات کی فصل کے خاتمے کا سالانہ ہدف 250 کنال مقرر تھا، جس میں سے اپریل تک 130 کنال پر کارروائی کی گئی۔ مالی سال کے دس ماہ میں منشیات کی فصل کے خاتمے کا صرف 52 فیصد ہدف حاصل ہوسکا۔

اسمگلنگ کے حوالے سے رپورٹ میں جولائی 2026 کی کسٹمز رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دو ہفتوں کے دوران ایک ارب 16 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کا اسمگل شدہ سامان اور گاڑیاں ضبط کی گئیں۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ منشیات اور اسمگلنگ کی بڑی کھیپوں کی برآمدگی کے ساتھ منتظمین، مالی سرپرستوں اور تقسیم کے نیٹ ورکس تک پہنچنا بھی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان دانا سر بائی پاس پر سیکیورٹی فورسز کا بڑا کریک ڈاؤن، انسانی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، 103 غیر قانونی افغان باشندے گرفتار

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 میں صوبائی کابینہ نے پولیس کمان پر سیاسی اختیارات بڑھانے کے نئے مسودے کی منظوری دی، جس کے بعد پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

وائٹ پیپر کے اختتام پر بڑھتے ہوئے جانی نقصان، نامکمل بھرتیوں اور مسلسل دہشتگرد حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت سے سیکیورٹی اخراجات، حفاظتی اقدامات اور ان کے عملی نتائج کا واضح حساب پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

editor

Related Articles