خیبر کے علاقے باڑہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے 20 کارکنان جو باڑہ میں دنگا فساد میں ملوث تھے کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔ کارکنان کو جیل منتقل کیے جانے کے بعد ان کی قانونی رہائی کے لیے آئندہ مرحلے میں ضمانت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق، عدالت کی جانب سے کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کے فیصلے کے بعد اب ان کی رہائی کے لیے قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔ اس سلسلے میں ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ عدالت سے کارکنان کی رہائی کے لیے رجوع کیا جا سکے۔
کارکنان کی جانب سے ضمانت کی درخواست دائر کیے جانے کے بعد عدالت میں ان کے مؤقف اور دستیاب قانونی نکات کی بنیاد پر رہائی کی استدعا کی جائے گی۔ تاہم، ضمانت کی درخواست دائر ہونے اور اس پر فیصلہ آنے تک کارکنان کی رہائی کے حوالے سے حتمی صورتِ حال واضح نہیں ہوگی۔
کارکنان کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان شاء اللہ جلد ضمانت کی درخواست دائر کی جائے گی۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوڈیشل ریمانڈ کے بعد اب توجہ قانونی کارروائی اور کارکنان کی رہائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے پر مرکوز ہے جبکہ مذکورہ افراد بارہ میں انتشار پھیلانے میں ملوث تھے ۔
جوڈیشل ریمانڈ کا مطلب یہ ہے کہ ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کی تحویل میں رکھنے کے بجائے عدالتی حکم کے تحت جیل بھیجا جاتا ہے۔ اس مرحلے پر ملزمان کی ضمانت کا معاملہ متعلقہ عدالت میں الگ سے زیرِ غور آ سکتا ہے۔