پی ٹی آئی دور میں فارچیونر اور HAVAL کس کس کے پاس پہنچیں؟

پی ٹی آئی دور میں فارچیونر اور HAVAL کس کس کے پاس پہنچیں؟

صحافی طارق آفاق  کے دعوی کے مطابق محکمہ مواصلات و تعمیرات خیبر پختونخوا کے غیر ملکی قرضوں سے چلنے والے منصوبے KP-RRDP کی 12 قیمتی گاڑیوں کے مبینہ طور پر غیر متعلقہ اور ذاتی استعمال کا معاملہ سامنے لایا گیا ہے۔ 

  صحافی کی طرف سے ایکس پر فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ٹویوٹا فارچیونر اور HAVAL سمیت قیمتی گاڑیاں منصوبے سے وابستہ بعض سابق و موجودہ عہدیداروں، سیاسی شخصیات اور ان کے قریبی افراد کے زیرِ استعمال ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

 طارق آفاق کے مطابق  عبدالہادی عرف پتنگ کے زیرِ استعمال دو نئی گاڑیاں، ایک فارچیونر اور ایک HAVAL بتائی گئی ہیں،منصوبے کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر عمیر احمد جان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے زیرِ استعمال بھی ایک فارچیونر اور ایک HAVAL ہے، جبکہ ان کے والد کے زیرِ استعمال بھی ایک گاڑی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں کرسی کی خاطر منت ترلے! پی ٹی آئی ارکان حکومت واپسی کے لیے ایمرجنسی پر بھی تعاون کو تیار، منیب فاروق کا دعویٰ

اسی طرح سہیل آفریدی کے سابق پرنسپل سیکرٹری زبیر نیازی کو ایک نئی فارچیونر گاڑی دیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے،انصاف یوتھ ونگ کے سابق مرکزی رہنما اور سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی انجینئر ہشتم خان کے بارے میں بھی ایک فارچیونر اور ایک HAVAL گاڑی ان کے زیرِ استعمال ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

فراہم کردہ تفصیلات میں منصوبے کے فنانس منیجر محمد طلحہ کا نام بھی شامل ہے۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک فارچیونر اور دو HAVAL گاڑیوں کے استعمال سے منسلک ہیں۔
مزید یہ کہ ان کے بھائی کے زیرِ استعمال ایک HAVAL اور ایک قریبی دوست کے زیرِ استعمال فارچیونر گاڑی ہونے کی اطلاع بھی دی گئی ہے،اسی طرح پراجیکٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر پروکیورمنٹ سید واثق زاہد شاہ کے زیرِ استعمال ایک HAVAL گاڑی ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اگر یہ تفصیلات درست ثابت ہوتی ہیں تو معاملہ سرکاری وسائل کے استعمال، منصوبے کے اثاثوں کی نگرانی اور گاڑیوں کی الاٹمنٹ کے قواعد سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔خاص طور پر یہ جاننا ضروری ہوگا کہ گاڑیاں کن قواعد کے تحت جاری کی گئیں، ان کے مجاز استعمال کنندگان کون تھے اور آیا ان کا استعمال منصوبے کے سرکاری مقاصد کے مطابق ہو رہا تھا یا نہیں۔

editor

Related Articles