خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے معاملے پر پی ٹی آئی کی سیاست اور ارکانِ اسمبلی کی ترجیحات سے متعلق سینئر صحافی اور اینکر پرسن منیب فاروق کے بیان نے سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ منیب فاروق نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ پی ٹی آئی کے بعض ارکانِ صوبائی اسمبلی عمران خان کے بیانیے کے بجائے اپنے مقدمات اور گرفتاریوں سے بچنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور حکومت میں واپسی کے لیے تعاون پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔
منیب فاروق نے اپنے تبصرے میں طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے‘‘۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کے بعض ارکان کو عمران خان کے بیانیے سے کوئی سروکار نہیں، بلکہ ان کی توجہ اپنے مقدمات اور ممکنہ گرفتاریوں سے بچنے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض ارکان اس شرط پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں کہ صوبے میں حکومت انہیں واپس مل جائے، چاہے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی برقرار ہی کیوں نہ رہے۔ اس تبصرے میں پی ٹی آئی کے اندرونی سیاسی مفادات اور اقتدار میں واپسی کی خواہش کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔
منیب فاروق کے بیان میں سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت دیگر رہنماؤں کا ذکر بھی کیا گیا۔ تبصرے میں یہ تاثر دیا گیا کہ بعض سیاسی شخصیات ایمرجنسی کے معاملے پر لچک دکھانے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ انہیں صوبائی حکومت میں دوبارہ جگہ مل جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ تو پہلے ہی ہوچکی ہے جو بچے کچھے لوگ ہیں وہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمیں کسی طرح دوبارہ حکومت دی جائے بے شک کچھ علاقوں میں ایمرجنسی کا نفاذ رہے لیکن حکومت واپس ہوجائے اور ہمیں اقتدار کے مزے لوٹنے کو پھر مل جائیں ۔