دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع میں جامع سکیورٹی پلان تیار، عوام کو نقل مکانی نہیں کرنا پڑے گی

دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع میں جامع سکیورٹی پلان تیار، عوام کو نقل مکانی نہیں کرنا پڑے گی

 خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے بعد دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور تعمیر و ترقی کے لیے جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں دہشت گردی سے شدید متاثرہ 12 اضلاع میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جائیں گی، تاہم کسی علاقے سے شہریوں کو نقل مکانی نہیں کرنا پڑے گی۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا مقصد امن بحال کرکے ان علاقوں کو دوبارہ سول انتظامیہ کے حوالے کرنا ہے جہاں اس وقت صوبائی حکومت کی عملداری اور ریاستی رِٹ انتہائی کمزور ہے۔ امن کے قیام کے بعد صوبے میں تعمیر و ترقی کے نئے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کارروائیوں کے دوران کسی قسم کی نقل مکانی یا لوگوں کو بے گھر کرنے کا منصوبہ شامل نہیں۔ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ مقامی آبادی اپنے گھروں میں رہتے ہوئے معمولات زندگی جاری رکھ سکے۔

دہشت گردی کے خاتمے کے بعد ترقیاتی منصوبے

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں امن کے قیام کے ساتھ ترقیاتی سرگرمیوں کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کے مطابق ان علاقوں کے عوام طویل عرصے سے محرومیوں کا شکار ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد وہاں ترقیاتی کاموں کا نیا دور شروع ہو۔

یہ بھی پڑھیں :خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی لوٹ ماربے نقاب کردی،محض 4 سالوں میں معدنیات کے ریکارڈ 4917 لائسنس جاری کیے

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ امن بحال ہونے کے بعد متاثرہ علاقوں کا انتظام سول انتظامیہ کے سپرد کیا جائے گا تاکہ حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔

معدنیات کے لائسنسوں کی تحقیقات کا اعلان

طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں معدنیات کے معاملے پر ایمرجنسی کو جوڑنے کے حوالے سے ہونے والی سیاسی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے معدنی وسائل وہاں کے عوام کی ملکیت ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں حکومت ملی تو معدنیات کے لائسنسوں کی تعداد ایک ہزار سے کم تھی، لیکن پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں یہ تعداد بڑھ کر 4,917 ہوگئی۔

وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ معدنیات کے ان لائسنسوں اور ٹھیکوں کی باقاعدہ تحقیقات کی جائیں گی۔ ان کے بقول اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ لائسنس کن بنیادوں پر جاری کیے گئے، کن افراد یا اداروں کو نوازا گیا اور اس عمل میں کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے متعلق معلومات بھی منظر عام پر لائی جائیں گی۔

سیاسی پروپیگنڈے سے گریز کی اپیل

وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سیاسی مخالفت کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے معدنیات کے معاملے پر ایمرجنسی کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے کو قابل مذمت قرار دیا۔

طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت کو مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار ملنے کے باوجود صوبے میں عوامی مسائل حل کرنے اور گورننس بہتر بنانے کے حوالے سے خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق صوبے کے عوام کو درپیش محرومیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمت عملی میں دہشت گردی کے خاتمے، ریاستی عملداری کی بحالی، معدنی وسائل کے معاملات کی تحقیقات اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles