قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا نے صحت کارڈ پلس پروگرام کے لیے مختص سرکاری فنڈز میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، ادائیگیوں کے ریکارڈ اور مستفید افراد کے ڈیٹا سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے سلسلے میں سابق ایگزیکٹو چیئرمین ڈاکٹر محمد ریاض تنولی کو طلب کر لیا ہے۔ نیب کے نوٹس میں مختلف مالی ادوار کے دوران مجموعی طور پر 21 ارب روپے کی ادائیگیوں کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔
نوٹس کے مطابق قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 19 کے تحت سابق چیئرمین کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے اور متعلقہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہیں 29 اکتوبر 2026، بروز جمعرات، صبح 11 بجے نیب خیبر پختونخوا کی کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔
12 ارب روپے کی ادائیگیوں پر سوالات
نوٹس میں مالی سال 2023-2024 کے دوران صحت کارڈ پروگرام کے لیے تقریباً 12 ارب روپے جاری کیے جانے کا ذکر ہے۔ نیب کے مطابق ابتدائی جانچ میں بعض رقوم کا مکمل حساب دستیاب نہ ہونے، کلیمز کی مکمل تصدیق اور مفاہمت نہ ہونے، پریمیم میں غیر مجاز تبدیلیوں اور انتظامی اخراجات کی مشکوک ادائیگیوں جیسے معاملات سامنے آئے ہیں۔
مزید 9 ارب روپے کا ریکارڈ طلب
نوٹس میں جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے دوران جاری کیے گئے مزید 9 ارب روپے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس مدت کے حوالے سے مستفید افراد کے ڈیٹا بیس میں غیر ضروری توسیع، گھوسٹ یا ڈپلیکیٹ کارڈز کے اجرا، وینڈرز کے انتخاب میں ممکنہ بے ضابطگیوں اور ہسپتالوں کے بھاری مالیت کے کلیمز کے لیے قابلِ تصدیق آڈٹ ریکارڈ کی عدم دستیابی جیسے نکات اٹھائے گئے ہیں۔نیب نے سرکاری خریداری کے قواعد، مالی ذمہ داریوں اور عوامی فنڈز کے استعمال سے متعلق ممکنہ خلاف ورزیوں کا بھی جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔
سابق چیئرمین سے دونوں مالی ادوار کی ادائیگیوں کا مکمل ریکارڈ، بینک اسٹیٹمنٹس، آڈٹ رپورٹس، کارڈز کے اجرا کا معیار، وینڈرز اور تھرڈ پارٹی ایڈمنسٹریٹرز کے معاہدے، مستفید افراد کی تصدیق شدہ فہرستیں اور فعال کلیمز کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ نوٹس میں ذاتی اثاثہ جات کے گوشوارے بھی پیش کرنے کی ہدایت شامل ہے۔
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانونی جواز کے بغیر ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ قانونی دفعات کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ تاہم، طلبی اور تحقیقات کا مرحلہ بذاتِ خود کسی شخص کے خلاف جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔