عوامی فیصلہ، انتشار مسترد! سوات میں ن لیگ کے جلسے میں بڑا اجتماع

عوامی فیصلہ، انتشار مسترد! سوات میں ن لیگ کے جلسے میں بڑا اجتماع

سوات میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جہاں وفاقی وزیر امیر مقام نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے احتجاج اور انتشار کی سیاست کے بجائے ترقی، خوشحالی اور امن کو ترجیح دی ہے۔

امیر مقام نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کی کال پر عوام کا ساتھ نہ دینا اس بات کی علامت ہے کہ صوبے کے لوگ اب ترقیاتی کاموں اور اپنے مسائل کے حل کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام نے اپنے طرزِ عمل سے واضح کیا ہے کہ وہ سیاسی کشمکش کے بجائے بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کسی کی جاگیر نہیں 

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ یہاں کے عوام باشعور ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے احتجاج کی کال پر ساتھ نہ دے کر اپنی ترجیحات واضح کر دی ہیں۔

امیر مقام نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پختون عوام نے اس جماعت کو تین مرتبہ صوبے میں حکومت کرنے کا موقع دیا، لیکن ان کے بقول جماعت عوام کی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہی۔

یہ بھی پڑھیں :پر تشدد انتشار کا خاتمہ ، باڑہ بازار میں زندگی معمول پر، تاجروں نے کاروبار دوبارہ شروع کر دیا

13 سالہ دورِ حکومت پر سوالات

وفاقی وزیر نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا میں بدعنوانی اور بدانتظامی کو فروغ ملا اور گزشتہ 13 برس کے دوران صوبے کو ترقی کی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچایا جا سکا۔ انہوں نے صوبے کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار پی ٹی آئی کی حکمرانی کو قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام کو ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں، بنیادی سہولیات بہتر ہوں اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں۔

دہشت گردی کے خلاف قربانیاں فراموش نہیں ہوں گی

امیر مقام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے بہادر شہریوں نے امن کے لیے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت صوبے کے عوام کی مشکلات اور قربانیوں کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار امن، معاشی بہتری اور ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول سیاسی اختلافات کو عوامی مفادات پر غالب نہیں آنا چاہیے اور صوبے کو آگے لے جانے کے لیے ترقیاتی اقدامات پر توجہ دینا ضروری ہے۔

امیر مقام نے اپنے خطاب میں اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں، جبکہ احتجاج اور سیاسی محاذ آرائی سے صوبے کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

editor

Related Articles