باڑہ پولیس اسٹیشن پر حملہ، سہیل آفریدی کے علاقے میں بار بار دہشت گردی کے واقعات کیوں؟ اہم سوالات اٹھنے لگے

باڑہ پولیس اسٹیشن پر حملہ، سہیل آفریدی کے علاقے میں بار بار دہشت گردی کے واقعات کیوں؟ اہم سوالات اٹھنے لگے

 خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں پولیس اسٹیشن اور چوکی پر حملہ پسپا کردیا گیا ہے سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد باڑہ میں پولیس تنصیبات کو بار بار نشانہ بنائے جانے کی وجوہات کیا ہیں اور حملہ آوروں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

غیر قانونی افغان باشندے

اس حوالے ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے علاقے میں بڑی تعداد میں غیر قانونی افغان باشندوں کو پناہ دی گئی تھی، جنہیں اب روپوش شاہد خٹک اور عبدالغنی آفریدی ریاستی اداروں پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ فتنہ الخوارج، پی ٹی آئی اور افغان طالبان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ بھی ہے  یہ عناصر علاقے میں بدامنی پھیلانے کے درپے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :باڑہ میں پولیس اسٹیشن اور چوکی پر حملہ ناکام، متعدد دہشت گرد ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات

باڑہ پولیس اسٹیشن پر حملہ

ابتدائی اطلاعات کے مطابق باڑہ شیخان میں جہازون گراؤنڈ کے قریب پولیس چوکی اور باڑہ پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں تاہم پولیس کی طرف سے بھر پور جوابی کارروائی کے نتیجے میں دہشتگرد بھاگنے پر مجبور ہوئے اور متعدد جہنم واصل ہوگئے ۔.

 ریاستی کارروائی پر نظریں

اس صورتِ حال میں اہم سوالات یہ ہیں کہ سہیل آفریدی کے علاقے میں ہی  پولیس تنصیبات پر مسلسل حملوں کے پیچھے کون سے عناصر ہیں، انہیں مقامی سطح پر کوئی سہولت میسر ہے ؟ اور سکیورٹی ادارے ان واقعات کی روک تھام کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کر رہے ہیں تاہم اس تمام سوالات کے باوجود  ریاست ایسے عناصر سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سہیل آفریدی نے دور اقتدار میں افغانیوؒں کو یہاں پر پناہ دی ہوئی تھی  اور سہیل آفریدی کے روپوش ساتھی شاہد اور دیگر اب ان افغانیوں کو حملوں کے لیے استعمال کررہے ہیں تاہم ریاست ایسے عناصر کا قلع قمع کرنا اچھی طرح  جانتے ہیں ۔

editor

Related Articles