“پنجاب گندم نہیں دیتا” کا جھوٹا واویلا اوراضاخیل گودام کا گھپلا، پی ٹی آئی حکومت کا اصلی چہرہ بے نقاب

“پنجاب گندم نہیں دیتا” کا جھوٹا واویلا اوراضاخیل گودام کا گھپلا، پی ٹی آئی حکومت کا اصلی چہرہ بے نقاب

خیبرپختونخوا میں پنجاب سے گندم کی فراہمی کے حوالے سے ماضی میں ہونے والی سیاسی بحث ایک بار پھر موضوعِ گفتگو بن گئی ہے۔ نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں سرکاری گندم گودام سے متعلق معاملے کو اسی تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔

 پنجاب سے گندم کا شکوہ

ذرائع کے مطابق  پاکستان تحریک انصاف کے دور میں پنجاب سے گندم کم ملنے کا مؤقف اختیار کرکے وفاقی اور پنجاب حکومتوں پر دباؤ ڈالا جاتا تھا اور  زیادہ گندم حاصل کرنے کے بعد اسے افغانستان اسمگل کیا جاتا اور سرکاری ریکارڈ میں گندم کی جگہ مٹی اور ریت سے بھری بوریاں دکھائی جاتی تھیں۔

 اضاخیل گودام کا معاملہ

نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں سرکاری گندم گودام سے متعلق بے ضابطگیوں کا معاملہ پہلے بھی رپورٹ ہو چکا ہے۔ نومبر 2024 میں گودام کے معائنے کے دوران سرکاری ریکارڈ کے مقابلے میں گندم کی 15,572 بوریاں کم پائی گئی تھیں۔

 یہ بھی پڑھیں :گندم کی سپورٹ پرائس 4 ہزار روپے فی من سے زیادہ ہوگی،رانا تنویرکا اہم اعلان

اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ بعدازاں مارچ 2025 میں اسی گودام سے گندم غائب ہونے کے مقدمے میں دو اہلکاروں کی گرفتاری کی اطلاع بھی سامنے آئی۔

حکام کے مطابق مقدمے میں 1,700 میٹرک ٹن گندم اور 3,309 خالی بوریاں غائب ہونے کا معاملہ شامل تھا۔ اس گندم کی مالیت تقریباً 19 کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔

 مٹی اور ریت کا دعویٰ

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ سرکاری گودام میں گندم کی جگہ مٹی اور ریت سے بھری بوریاں موجود تھیں۔

اگر سرکاری ذخائر میں گندم کی جگہ دوسری اشیا رکھنے کا معاملہ ثابت ہوتا ہے تو یہ سرکاری ریکارڈ اور نگرانی کے نظام سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے گا۔

editor

Related Articles