وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ گندم کی سپورٹ پرائس 4 ہزار روپے فی من سے زیادہ مقرر کی جائے گی، جبکہ قیمت کے حتمی تعین کے لیے صوبوں سے مشاورت کی جائے گی۔
کاشتکاروں کو ریلیف
رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت کاشتکاروں کے گزشتہ نقصانات کا بھی ازالہ کرے گی اور گندم کے حوالے سے ایسا فیصلہ کیا جائے گا جس سے کسانوں کو مناسب ریلیف مل سکے،وفاقی وزیر کے مطابق گندم کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے 5 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا آرڈر دے دیا گیا ہے،انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتے یا 10 دن کے اندر وزیراعظم کی زیر صدارت گندم کی سپورٹ پرائس کے حوالے سے اہم اجلاس ہوگا، جس میں قیمت کے تعین سمیت دیگر معاملات پر غور کیا جائے گا۔
رانا تنویر حسین نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دہشتگردوں کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔
پی ٹی آئی پر تنقید
وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کے رویے کو ہٹ دھرمی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی مفادات کے بجائے دہشتگردی کے خاتمے اور ملکی سلامتی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
گورنر راج آخری آپشن
سیاست کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے کہا کہ گورنر راج آخری آپشن ہے اور اس کی آئین میں بھی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی نے پنجے گاڑ رکھے ہیں اور اس سے نمٹنے کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے۔
وفاقی حکومت تعاون کیلئے تیار
وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبائی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہیے جبکہ وفاقی حکومت مکمل تعاون اور سپورٹ فراہم کرے گی۔
مذاکرات سے حل نکالنے پر زور
رانا تنویر حسین نے کہا کہ مسائل کا بہترین حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اور دیگر معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہی زیادہ مؤثر اور مناسب طریقہ ہے۔