جڑواں شہروں میں کھربوں کے اثاثے لوٹنے والا کیبل چوروں کا نیٹ ورک دھر لیا گیا، گوجرانوالہ تک پھیلا گینگ بے نقاب

جڑواں شہروں میں کھربوں کے اثاثے لوٹنے والا کیبل چوروں کا نیٹ ورک دھر لیا گیا، گوجرانوالہ تک پھیلا گینگ بے نقاب

اسلام آباد اور راولپنڈی میں زیرِ زمین کیبل چوری کے واقعات کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مبینہ طور پر اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث گروہ کے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ کیبل اور کٹر برآمد ہوئے ہیں۔ گرفتار افراد کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک میں سکریپ ڈیلرز، مزدوروں  سمیت 50 سے زائد افراد شامل ہو سکتے ہیں۔

چار ملزمان گرفتار

تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے ایک کو تھانہ ویسٹریج اور تین کو تھانہ سول لائنز کی حدود سے حراست میں لیا گیا۔

پولیس نے کارروائی کے دوران چوری شدہ زیرِ زمین کیبل اور اسے کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والا کٹر بھی برآمد کیا۔ حکام کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :ہنی ٹریپ بلیک میلنگ سے لوگوں سے رقم ہتھیانے ولا بین الاضلائی گینگ گرفتار: اہم انکشافات سامنے آ گئے

اس کارروائی کو زیرِ زمین کیبل چوری کے واقعات کی تحقیقات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

50 سے زائد افراد کے ملوث ہونے کا دعویٰ

ذرائع کے مطابق مبینہ نیٹ ورک میں سکریپ ڈیلرز، مزدوروں  سمیت 50 سے زائد افراد شامل ہیں۔ اس گروہ کے ارکان مختلف علاقوں سے زیرِ زمین کیبلز چوری کرکے انہیں آگے فروخت کرتے تھے۔

تحقیقات میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے پانچ پولیس اہلکاروں کے مبینہ روابط کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم ان اہلکاروں کے کردار اور مبینہ روابط کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اگر ان روابط کی تصدیق ہوتی ہے تو معاملہ صرف کیبل چوری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ متعلقہ اہلکاروں کی ممکنہ ذمہ داری کا تعین بھی اہم ہوگا۔

چوری شدہ کیبل گوجرانوالہ میں فروخت

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ چوری شدہ زیرِ زمین کیبلز گوجرانوالہ لے جا کر فروخت کی جاتی تھیں۔

 یہ بھی پڑھیں :پنجاب : جعلی کسٹم افسر بن کر مالی فراڈ کرنیوالے اوڈ گینگ کے دو کارندے گرفتار

تفتیشی حکام اب مبینہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور چوری شدہ سامان کی خرید و فروخت کے طریقۂ کار کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ چوری شدہ کیبل کی مجموعی مالیت کتنی ہے یا کتنے واقعات میں اس گروہ کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

editor

Related Articles