بھارت کا چہرہ بے نقاب: ایڈمنٹن میں سکھ برادری نے مودی سے آزادی کا تاریخی فیصلہ سنادیا

بھارت کا چہرہ بے نقاب: ایڈمنٹن میں سکھ برادری نے مودی سے آزادی کا تاریخی فیصلہ سنادیا

 ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے دوران سکھ برادری کی جانب سے بھارتی پنجاب کو آزادی دلانے کے مطالبے نے بھارت مخالف آوازیں بلند کر دیں۔

شرکا نے مودی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے بھارتی حکومت کا سفاکانہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ۔

کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد کے دوران بھارت سے علیحدگی اور بھارتی پنجاب کو آزاد ریاست بنانے کے مطالبے سامنے آئے۔

 یہ بھی پڑھیں :بنگلہ دیش عام انتخابات اور آئینی ریفرنڈم کے لیے پولنگ جاری، 13 کروڑ ووٹرز نئی تاریخ رقم کرنے کو تیار

ریفرنڈم میں شرکت کے لیے سکھ برادری کے افراد کی بڑی تعداد پولنگ مقام پر پہنچی۔

رپورٹ کے مطابق البرٹا اسمبلی کے باہر ووٹنگ کا عمل جاری رہا۔ پولنگ مرکز کے باہر لوگوں کی طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ امریکا اور کینیڈا سے بھی سکھ برادری کے افراد ایڈمنٹن پہنچے۔

ریفرنڈم کے مقام پر بھارت مخالف نعرے لگائے گئے۔ شرکا نے بھارتی پنجاب کی آزادی اور خالصتان کے قیام کے حق میں اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

ایڈمنٹن میں پولنگ

خالصتان ریفرنڈم کے لیے ایڈمنٹن میں ووٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔  رپورٹ کے مطابق پولنگ شام پانچ بجے تک جاری رہی۔

 یہ سرگرمی بھارت سے علیحدگی اور خالصتان کے قیام کی حمایت کرنے والے حلقوں کے لیے اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی۔

خالصتان کا مطالبہ

خالصتان تحریک کے حامی بھارتی پنجاب کو بھارت سے الگ کرکے ایک آزاد ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس تحریک کا معاملہ طویل عرصے سے بھارتی سیاست اور سکھ برادری سے متعلق مباحث کا حصہ رہا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم، سکھ برادری کا بھارتی جابرانہ نظام کے خلاف اعلانِ بغاوت

کینیڈا میں اس نوعیت کی سرگرمیاں آزادیٔ اظہار، سیاسی احتجاج اور بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کے حوالے سے بھی توجہ حاصل کرتی ہیں۔

بھارت مخالف نعرے بازی

رپورٹ کے مطابق ریفرنڈم کے مقام پر بھارت مخالف نعرے لگائے گئے۔ شرکا نے بھارتی پنجاب کی آزادی کے مطالبے کے ساتھ اپنے سیاسی مؤقف کا اظہار کیا۔

editor

Related Articles