ماسکو نے ایران اور امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں اور خلیج میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے بحران کی بنیادی وجوہات حل کرنا ضروری ہے۔
منامہ میں اہم اجلاس
منامہ میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کا اجلاس ہوا جس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں خلیجی خطے کی سکیورٹی، ایران کے ساتھ تعلقات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خلیجی ممالک نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے روابط اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لائے۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ ایران خطے کے ممالک کی خودمختاری کا احترام یقینی بنائے۔
روس کی مشترکہ سکیورٹی تجویز
روسی وزیر خارجہ نے خطے کو وسیع جنگ سے بچانے کی حمایت کی۔ لاوروف نے خلیجی خطے میں مشترکہ سکیورٹی ڈھانچہ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی جس کا مقصد علاقائی سلامتی کے معاملات پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔
روس کی تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی صورت حال اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی علاقائی سلامتی کے اہم معاملات میں شامل ہیں۔
اس آبی گزرگاہ میں عدم استحکام کے اثرات خلیجی ممالک اور عالمی تجارت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
اسلام آباد مفاہمت پر واپسی پر زور
سرگئی لاوروف نے ایران اور امریکا سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر واپس آنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے بیان کے مطابق، خطے کو وسیع جنگ سے بچانے کے لیے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی ضروری ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں کشیدگی ختم کرنے پر بھی زور دیا۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بحران کی بنیادی وجوہات کو حل کیے بغیر پائیدار استحکام حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اس پیش رفت میں روس نے خود کو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے حامی کے طور پر پیش کیا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشت کی طرف واپسی پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔