“ہماری اینٹی اسٹیٹ پالیسی نے پارٹی کو تباہ کیا” شوکت یوسفزئی نے پی ٹی آئی کی منافقت بے نقاب کر دی

“ہماری اینٹی اسٹیٹ پالیسی نے پارٹی کو تباہ کیا” شوکت یوسفزئی نے پی ٹی آئی کی منافقت بے نقاب کر دی

پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے اپنی جماعت کی سیاسی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ مزاحمتی سیاست نے پی ٹی آئی کو نقصان پہنچایا اور قیادت کارکنوں کو واضح لائحہ عمل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اداروں کے ساتھ لڑائی نہیں ہونی چاہیے اور محاذ آرائی کا تاثر ختم کرنا ضروری ہے۔   سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

 یہ بھی پڑھیں :لانگ مارچ فوری روکیں، شوکت یوسفزئی کا بیرسٹر گوہر اور پارٹی قیادت کو خط

پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ وہ پہلے بھی لانگ مارچ مؤخر کرکے مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دے چکے ہیں۔

 شوکت یوسفزئی نے پارٹی کو موجودہ صورت حال سے نکالنے کے لیے پانچ رہنماؤں کو آگے آنے کی تجویز دی۔ ان میں بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا، اسد قیصر، عاطف خان اور علی محمد خان شامل ہیں۔

انہوں نے بیرسٹر گوہر کے کردار کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو واضح حکمت عملی وضع کرے۔ ان کے مطابق قیادت کو کارکنوں کی بے یقینی ختم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

شوکت یوسفزئی کے بیان میں پارٹی قیادت کے لیے ایک اہم سوال بھی موجود ہے کہ آیا موجودہ سیاسی حالات میں مزاحمتی طرز سیاست جاری رکھی جائے یا مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالا جائے۔

 یہ بھی پڑھیں  :رہنما پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی شیرافضل مروت کے لیے میدان میں آگئے

 شوکت یوسفزئی کا بیان پی ٹی آئی کے اندر سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے اختلافِ رائے کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک طرف کارکنوں کے خلاف کارروائیوں پر تحفظات ہیں، تو دوسری طرف پارٹی کی قیادت اور احتجاجی سیاست کے نتائج پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے ملک کے دفاع کے لیے جانیں قربان کرنے والے فوجی اور پولیس اہلکاروں کو قابلِ فخر قرار دیا۔ ان کے بیان سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے رابطے اور مذاکرات کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

editor

Related Articles