اٹلی میں مہنگائی اور ناقص عوامی خدمات کے خلاف احتجاج نے پرتشدد صورت اختیار کر لی۔ میلان میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔ شہر کے مرکزی علاقے میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔
دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق سیکڑوں نقاب پوش مظاہرین میلان کے مرکزی علاقے پیاتسا ڈوومو کے قریب جمع ہوئے۔ اس دوران بعض مظاہرین نے دکانوں کے شیشے توڑ دیے اور کچرے کے ڈبوں کو آگ لگا دی۔ رپورٹ میں دکانوں میں لوٹ مار اور پولیس پر پتھراؤ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
پولیس کی کارروائی
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔ ذرائع کے مطابق 60 سے زائد مظاہرین کو مزید تفتیش کے لیے تھانے منتقل کیا گیا۔
پرتشدد واقعات صرف میلان تک محدود نہیں رہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق اس سے ایک روز قبل شمالی اٹلی کے مختلف شہروں میں بھی مظاہروں کے دوران جھڑپیں ہوئی تھیں۔
ان شہروں میں بولوگنا، بریشیا، برگامو اور تورین شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں 28 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔
میلونی نے اجلاس طلب کر لیا
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے حکومتی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں صورت حال سے نمٹنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
حکومت کے سامنے ایک طرف عوامی احتجاج اور اس کے پس منظر میں موجود معاشی و شہری مسائل ہیں، جبکہ دوسری طرف مظاہروں کے دوران تشدد، توڑ پھوڑ اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات ہیں۔
مہنگائی اور عوامی خدمات سے متعلق شکایات نے اٹلی میں احتجاج کو نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں مظاہرین کے مطالبات کی مکمل تفصیل یا حکومت کی جانب سے کسی نئے معاشی پیکیج کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
فرانس میں بھی احتجاج
اٹلی میں یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پڑوسی ملک فرانس میں بھی مہنگائی اور عوامی خدمات میں کمی کے خلاف بڑے احتجاج رپورٹ ہوئے ہیں۔ وہاں بھی مظاہروں کے دوران بدامنی کے واقعات پیش آنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
اٹلی اور فرانس میں احتجاج کے پس منظر میں عوامی اخراجات، مہنگائی اور بنیادی خدمات سے متعلق شکایات زیر بحث ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے احتجاج کی وجوہات اور مطالبات کو یکساں قرار دینے کے لیے مزید تفصیلات درکار ہیں۔
میلان میں تازہ جھڑپوں کے بعد توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ حکومت عوامی شکایات کے ازالے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔ حکومتی اجلاس کے نتائج اس حوالے سے اہم ہوں گے۔