امریکہ ایران کشیدگی، تہران کا ڈٹ جانے کا اعلان،عالمی منڈی میں سنسنی

 ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکی دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنے دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے، تاہم باہمی احترام اور قومی حقوق کے تحفظ کے ساتھ سفارت کاری کے لیے بھی آمادہ ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق عباس عراقچی نے یہ مؤقف بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے 52ویں اجلاس کے موقع پر سامنے آنے والے بیانات میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران دباؤ، دھمکیوں اور خوف زدہ کرنے کی کوششوں کو قبول نہیں کرتا۔

سفارت کاری کمزوری نہیں

عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کے لیے تیار ہونا کمزوری نہیں، بلکہ اختلافات کے حل کا ایک راستہ ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنے عوام، خودمختاری اور جائز مفادات کا دفاع کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے ماضی کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے سفارتی عمل میں سنجیدگی دکھائی، لیکن ان کے بقول مذاکراتی کوششوں کے بعد فوجی حملوں نے اعتماد کو نقصان پہنچایا۔

 یہ بھی پڑھیں :نیویارک : نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، امن و استحکام کیلئے مذاکرات پر زور

انہوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ آئندہ مذاکرات کے لیے قابلِ اعتماد ضمانتیں ضروری ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ کسی بھی نئے سفارتی عمل میں اس کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور دوبارہ حملوں کے خدشات دور ہوں۔

آبنائے ہرمز کھولنے کا منصوبہ

عراقچی نے امریکا کے سامنے پیش کیے گئے ایران کے سات روزہ منصوبے کو بھی برقرار قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر واشنگٹن ایرانی شرائط قبول کر لے تو آبنائے ہرمز چھٹے روز کھولی جا سکتی ہے اور ساتویں روز مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔

ایران کی تجاویز میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، تیل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹانے اور خطے میں جاری لڑائی روکنے سے متعلق مطالبات شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ان شرائط پر اختلافات برقرار ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ اس کی بندش یا آمدورفت میں رکاوٹ عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔

فیصلہ واشنگٹن کے ہاتھ میں؟

ایرانی مؤقف کے مطابق سات روزہ منصوبے پر پیش رفت کا انحصار امریکی ردعمل اور شرائط پر ہے۔ عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات تاحال حل نہیں ہوئے۔ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو مذاکرات میں اہمیت دیتا ہے، جبکہ تہران پہلے آبنائے ہرمز اور سمندری سلامتی سے متعلق معاملات پر توجہ دینے کا خواہاں ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :بشکیک : وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات، باہمی اُمور پر تبادلہ خیال

عراقچی کے تازہ بیان میں ایک طرف امریکی دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان ہے، تو دوسری طرف مذاکرات کے ذریعے بحران حل کرنے کی آمادگی بھی موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کم کرنے اور سفارتی عمل آگے بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔

editor

Related Articles