خیبرپختونخوا میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں قائم ایڈوائزری کونسل کے سامنے امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے، پولیس کی استعداد میں اضافے اور انتظامی نظام کو مؤثر بنانے کے اہداف رکھ دیے گئے ہیں۔ کونسل کے پہلے اجلاس میں طے شدہ ترجیحات کے بعد اب توجہ ان فیصلوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور عوامی مسائل کے حل پر مرکوز ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایڈوائزری کونسل کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیحات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے بغیر ترقی، سرمایہ کاری اور خوشحالی کا تصور ممکن نہیں، اس لیے سکیورٹی کے ساتھ اچھی حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔
گورنر نے کونسل کے ارکان کو ہدایت کی تھی کہ فیصلوں پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور کارکردگی کے ایسے نتائج سامنے لائے جائیں جن سے عوام کو واضح فرق محسوس ہو۔ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستی اداروں اور انتظامی مشینری کو عوامی فلاح کے لیے مؤثر انداز میں کام کرنا ہوگا۔
سکیورٹی کے شعبے میں پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی استعداد بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس معاونت فراہم کرنے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درکار وسائل مہیا کرنے کو اہم اہداف قرار دیا گیا ہے۔ گورنر نے پولیس، فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کی مکمل معاونت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایڈوائزری کونسل کے لیے ایک اہم ہدف دہشت گردی کے پورے نظام کے خلاف مؤثر کارروائی بھی ہے۔ اس میں دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت، بھرتیوں کے ذرائع، غیر قانونی اسلحے، منشیات کی تجارت اور ان سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ گورنر نے قومی ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد اور دہشت گردی میں ملوث یا سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی پر بھی زور دیا تھا۔
دوسری جانب صوبے کے متاثرہ اضلاع میں ریاستی رٹ مضبوط بنانے کے ساتھ تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں، بجلی، پانی اور انتظامی خدمات کی بہتری کو بھی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ گورنر نے واضح کیا تھا کہ عوام کو بہتر سرکاری سہولتیں فراہم کرنا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع دینا ضروری ہے تاکہ ان کا مستقبل دہشت گردی اور تشدد سے محفوظ بنایا جا سکے۔
ترقیاتی شعبے میں پولیس لائنز، تھانوں، چیک پوسٹوں اور سیف سٹی منصوبوں کے رکے ہوئے کام دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کے تناظر میں بھی منصوبوں کی موجودہ صورتِ حال، فنڈز کی دستیابی اور تکمیل میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ان منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے سے پولیس کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور حساس علاقوں میں سکیورٹی انتظامات مضبوط کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
گورنر نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں گڈ گورننس کے کامیاب اقدامات سے استفادہ کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ جہاں بھی کوئی مؤثر اور کامیاب طریقۂ کار موجود ہو، اسے خیبرپختونخوا میں بھی اپنایا جانا چاہیے تاکہ انتظامی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔
ایڈوائزری کونسل کے سامنے اب اصل چیلنج یہ ہے کہ مقررہ ترجیحات کے مطابق محکموں کی ذمہ داریاں واضح کی جائیں، فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کا مؤثر نظام بنایا جائے اور ہر شعبے میں قابلِ پیمائش نتائج حاصل کیے جائیں۔ امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات کے شعبوں میں عملی پیش رفت ہی اس نئی انتظامی حکمتِ عملی کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ ہوگی۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے طویل عرصے سے جاری چیلنجز کے تناظر میں گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ صوبے میں امن، استحکام اور ترقی کی بحالی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اب ایڈوائزری کونسل کی کارکردگی کا اہم مرحلہ ان ترجیحات کو عملی شکل دینا اور عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔