دنیا میں ایک ایسی جگہ بھی موجود ہے جہاں خاموشی اس حد تک محسوس ہوتی ہے کہ انسان کو اپنی سانس اور دل کی دھڑکن کی آواز بھی زیادہ واضح سنائی دے سکتی ہے۔ یہ کمرہ امریکی ریاست واشنگٹن میں مائیکروسافٹ کے ہیڈکوارٹر میں واقع ہے اور اسے دنیا کے خاموش ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسے ’اینیکوک چیمبر‘کہا جاتا ہے، جسے آواز کی گونج ختم کرنے اور بیرونی شور سے محفوظ رکھنے کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کمرے میں پس منظر کی آواز منفی 20.35 ڈیسیبل تک ریکارڈ کی گئی، جو عام انسانی سماعت کی حد سے بھی کم ہے۔ اس کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈز میں بھی درج کیا جا چکا ہے۔
کمرے میں آواز کیسے غائب ہو جاتی ہے؟
اس خصوصی کمرے کی دیواروں، چھت اور فرش پر فائبر گلاس کے نوکیلے ڈھانچے نصب کیے گئے ہیں، جو آواز کی لہروں کو جذب کرکے ان کی گونج کم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کمرے کو عمارت کے ڈھانچے سے الگ رکھنے کے لیے اسپرنگس کا استعمال کیا گیا ہے، تاکہ باہر سے آنے والا شور اور ارتعاش اندرونی ماحول کو متاثر نہ کرے۔
یہ انتظام کمرے کو آواز کی پیمائش اور مختلف آلات کی جانچ کے لیے غیر معمولی طور پر موزوں بناتا ہے۔
مکمل خاموشی میں انسان کو کیا محسوس ہوتا ہے؟
عام ماحول میں مختلف آوازیں ہمارے جسم کے اندر ہونے والے عمل کی آوازوں کو دبا دیتی ہیں۔ لیکن انتہائی خاموش کمرے میں بعض افراد کو اپنی سانس، دل کی دھڑکن اور جسم کی حرکت سے پیدا ہونے والی آوازیں زیادہ نمایاں محسوس ہو سکتی ہیں۔
کچھ لوگوں کو اس ماحول میں بے چینی، چکر یا ذہنی دباؤ بھی محسوس ہو سکتا ہے، تاہم ہر شخص کا تجربہ مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ ہر شخص اس کمرے میں زیادہ دیر رہنے پر لازماً پریشانی محسوس کرے گا۔
اس کمرے کا مقصد لوگوں کو خاموشی کا تجربہ کروانا نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی جانچ کرنا ہے۔ مائیکروسافٹ اسے ہیڈ فونز، مائیکروفونز اور کمپیوٹر کے دیگر آلات کی آواز، کارکردگی اور شور کی سطح جانچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یہ کمرہ اس بات کی مثال ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں بعض اوقات بہتر آواز حاصل کرنے کے لیے شور کو کم سے کم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہوتا ہے۔