وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ بجلی چوری روکنے اور عام صارفین کی نیا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت اگلے سال جون سے بجلی چوری کرنے والے فیڈرز کی جگہ صرف مخصوص ٹرانسفارمرز پر لوڈشیڈنگ کی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ غازی خان میں ‘فاروق احمد خان لغاری انٹرنیشنل ایئرپورٹ’ کے توسیعی منصوبے کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
بجلی کے نظام میں اصلاحات اور بچت
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت عوام کو مہنگی بجلی سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے ، انہوں نے وضاحت کی کہ رات کے وقت دو گھنٹے کی کیپنگ اور لوڈشیڈنگ کی بدولت صارفین کو فی یونٹ 6 روپے کے اضافی بوجھ سے بچایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسفارمر کی سطح پر لوڈشیڈنگ کا مقصد ان صارفین کو سزا سے بچانا ہے جو باقاعدگی سے بل ادا کرتے ہیں۔
فاروق لغاری ایئرپورٹ کی 5.5 ارب روپے سے توسیع
ایئرپورٹ منصوبے کے حوالے سے اویس لغاری نے بتایا کہ گزشتہ 5 سال سے غیر فعال رہنے والے اس ایئرپورٹ کی بحالی کے لیے وزیراعظم سے 5.5 ارب روپے کا توسیعی منصوبہ منظور کرایا گیا ہے ، اگلے سال کے آخر تک یہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ مکمل طور پر فعال ہو جائے گا ، اس منصوبے سے ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے علاوہ قریب واقع دیگر صوبوں کے اضلاع کے مسافر بھی مستفید ہو سکیں گے۔
توسیعی منصوبے کی تفصیلات اور بریفنگ
اس سے قبل، پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے حکام نے وفاقی وزیر کو منصوبے پر تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ ایئرپورٹ کے رن وے کی لمبائی 6 ہزار فٹ سے بڑھا کر 10 ہزار فٹ کی جا رہی ہے ، رن وے کی چوڑائی 30 میٹر سے بڑھا کر 45 میٹر کی جائے گی ، یہ منصوبہ ڈیڑھ سال کی مدت میں مکمل ہوگا، جس کے بعد ایئرپورٹ پر رات کے وقت بھی پروازوں کی لینڈنگ ممکن ہو سکے گی۔
ایک سوال کے جواب میں اویس لغاری نے کہا کہ ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے حوالے سے پارٹی سطح پر مشاورت جاری ہے ، انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ مسلم لیگ (ن) پہلے ہی جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو الگ صوبے بنانے کے لیے اسمبلی سے قراردادیں منظور کروا چکی ہے۔