بجلی تو بچا رہے ہیں لیکن پھر بھی بل زیادہ آرہا ہے ، ہمارے ہاں بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ انتہائی کم اور ضرورت کے مطابق بجلی استعمال کرتے ہیں، اس کے باجود ان کا بل ہرماہ امید سے زیادہ ہی آتا ہے، اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہو رہا ہے، تو آپ یقیناً انجانے میں ایک ایسی غلطی کر رہے ہیں جو آپ کی محنت سے کمائی گئی رقم بلاوجہ نچوڑ رہی ہے۔
اکثر صارفین سمجھتے ہیں کہ بل میں اضافہ صرف زیادہ یونٹس استعمال ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں بجلی کے بل میں کئی دوسرے چارجز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
بل میں استعمال شدہ یونٹس کے ساتھ ٹیرف کے مطابق فکسڈ چارجز، ٹیکسز اور دیگر قابلِ اطلاق رقم بھی شامل ہو سکتی ہے ، اس لیے بل زیادہ آنے کی وجہ جاننے کے لیے صرف یونٹس دیکھنا کافی نہیں۔
گھر کے بجلی کے لوڈ پر نظر رکھیں
گھر میں وقت کے ساتھ بجلی سے چلنے والے آلات کی تعداد بڑھ جاتی ہے ، مثال کے طور پر پہلے گھر میں صرف پنکھے، بلب اور فریج ہوتا ہے، لیکن بعد میں اے سی، واٹر پمپ، گیزر، مائیکروویو، واشنگ مشین اور دیگر آلات بھی شامل ہو جاتے ہیں۔
ایسے میں گھر کی بجلی کی مجموعی ضرورت بڑھ سکتی ہے اگر آپ کے کنکشن کا منظور شدہ لوڈ گھر کی موجودہ ضرورت کے مقابلے میں کم ہے تو متعلقہ بجلی کمپنی سے اپنے کنکشن کی تفصیلات اور لوڈ کے بارے میں تصدیق کرنا بہتر ہے۔
صرف یونٹس ہی کافی نہیں
بجلی کا بل چیک کرتے وقت موجودہ اور پچھلے مہینے کے یونٹس کا موازنہ کریں ، اگر یونٹس میں زیادہ فرق نہیں آیا لیکن بل میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے تو فکسڈ چارجز، ٹیکسز یا دیگر بلنگ ایڈجسٹمنٹس بھی وجہ ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح بل پر میٹر ریڈنگ اور بلنگ کی مدت بھی دیکھیں۔ بعض اوقات ریڈنگ کے دنوں میں فرق یا پچھلے بقایاجات بھی مجموعی رقم کو زیادہ کر سکتے ہیں۔
ایک وقت میں زیادہ آلات چلانے سے کیا ہوگا؟
اے سی، گیزر، آئرن، واٹر پمپ اور دیگر زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات کو ایک ساتھ چلانے سے اس وقت بجلی کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ اس سے میٹر پر فوری بجلی کا استعمال زیادہ نظر آ سکتا ہے۔
بل زیادہ آئے تو یہ کام کریں
اگر بجلی کا بل اچانک بڑھ گیا ہے تو سب سے پہلے موجودہ بل کو پچھلے چند ماہ کے بلوں سے ملا کر دیکھیں ، تمام یونٹس، میٹر ریڈنگ، فکسڈ چارجز، ٹیکسز اور دیگر رقم کا جائزہ بھی لیں تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے اور اگر میٹر کی ریڈنگ اور بل میں درج ریڈنگ مختلف ہو، غیر معمولی یونٹس نظر آئیں یا کسی چارج کی سمجھ نہ آئے تو اپنی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی سے شکایت یا تصدیق کریں۔
بجلی بچانے کے لیے گھر میں غیر ضروری لائٹس اور پنکھے بند رکھیں، اے سی کو مناسب درجہ حرارت پر چلائیں اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات کو بلا ضرورت چلانے سے گریز کریں۔