فرانس میں مہنگائی کے خلاف پُرتشدداحتجاج،معروف برانڈز کی دکانیں لوٹ لی گئیں

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پُرتشدداحتجاج،معروف برانڈز کی دکانیں لوٹ لی گئیں

فرانس میں مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کے خلاف ہونے والے مظاہروں نے پُرتشدد رخ اختیار کرلیا، جہاں نقاب پوش افراد نے ایپل، لوئی وٹون اور ہرمیس سمیت معروف عالمی برانڈز کی دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔

پیرس سمیت مارسیل، بورڈو اور لیل جیسے بڑے شہروں میں احتجاج کے دوران بعض افراد نے مہنگے ملبوسات، برقی آلات، سپر مارکیٹوں اور دیگر تجارتی مراکز کو نشانہ بنایا، مظاہرین میں شامل افراد نے دکانوں کے شیشے توڑ کر اندر داخل ہونے کے بعد قیمتی سامان چوری کیا۔
بڑے تجارتی مراکز بند
امن و امان کی صورت حال بگڑنے اور ممکنہ لوٹ مار کے خدشے کے پیش نظر متعدد بڑے تجارتی اداروں نے اپنی دکانیں عارضی طور پر بند کردیں۔ اس دوران بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق احتجاج میں تقریباً پانچ لاکھ 50 ہزار افراد شریک ہوئے،بدامنی کے واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں، جبکہ جھڑپوں کے دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
میکرون کا کارروائی کا اعلان
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے احتجاج کے دوران تشدد اور دکانوں میں لوٹ مار کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ حکام کو متاثرہ کاروباروں کی بحالی اور مزید بدامنی روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

مہنگائی اور بڑھتے اخراجات
فرانس میں احتجاج کی شدت کے پیچھے مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کے علاوہ تعلیمی سہولتوں کی کمی، سرکاری خدمات کے معیار اور حکومتی اخراجات سے متعلق عوامی بے اطمینانی کو بھی اہم عوامل قرار دیا جارہا ہے۔
البتہ احتجاج میں شریک تمام افراد کو توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا؛ ان واقعات میں ملوث افراد اور پُرامن مظاہرین کے کردار میں فرق کرنا ضروری ہے۔

editor

Related Articles