وزیراعظم کی ایف بی آر اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت، ٹیکس گیپ 6 سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا

وزیراعظم کی ایف بی آر اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت، ٹیکس گیپ 6 سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا

وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحاتی عمل تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ادارے میں بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کی کوئی گنجائش نہیں، انہوں نے کہا کہ اصلاحات کو مؤثر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، شفافیت، جوابدہی اور افسران کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر کی کارکردگی اور اصلاحات کا ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس وصولیوں کے نظام، ادارہ جاتی تبدیلیوں اور اب تک حاصل ہونے والے نتائج پر بریفنگ دی گئی۔

ٹیکس گیپ میں ایک فیصد کمی

اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 6 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا ہے، بریفنگ کے مطابق ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایف بی آر افسران کے صوابدیدی اختیارات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :تاجر تنظیموں اور ٹیکس بارز کا مطالبہ منظور، ایف بی آر نے گوشواروں کی تاریخ بڑھا دی

شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ٹیکس چوری اور وصولیوں میں موجود خلا پر قابو پانے کے لیے ادارے کی استعدادِ کار میں مسلسل اضافہ کیا جائے،انہوں نے ٹیکس وصولی کے شعبوں میں افسران اور شہریوں کے براہ راست رابطے کے بغیر کام کرنے والے فیس لیس نظام کو تیزی سے وسعت دینے پر بھی زور دیا۔
افسران کی تربیت اور کارکردگی کا جائزہ
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کے نئے افسران کو لمز میں تربیت دی جا رہی ہے، جبکہ پہلے سے تعینات افسران کے لیے بھی دورانِ ملازمت تربیتی پروگرام جاری ہیں۔ افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے پیئر ریٹنگ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

بریفنگ کے مطابق آڈٹ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 957 آڈیٹرز کو میرٹ کی بنیاد پر تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کے طور پر کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا، جس کے نتیجے میں آڈٹ کی استعدادِ کار میں چار گنا اضافہ ہوا ہے ایف بی آر کی تکنیکی بنیادوں پر تنظیمِ نو، ماہر افرادی قوت کی بھرتی اور کارکردگی سے منسلک مراعات کا نظام بھی اصلاحاتی منصوبے کا حصہ ہیں۔
بدعنوانی پر بلا امتیاز کارروائی کا حکم
وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر افسران اپنی کارکردگی بہتر بنائیں اور عوام کی توقعات پر پورا اتریں۔ ان کے مطابق اصلاحات قومی مفاد میں ہیں اور ان کا سلسلہ جاری رہے گاانہوں نے ہدایت کی کہ بدعنوان عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے، جبکہ اپنے رویے اور کارکردگی میں بہتری لانے والے افسران اور ملازمین کو اصلاح کا موقع دیا جائے۔
بدعنوانی اور ناقص کارکردگی جاری رکھنے والوں کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے،اجلاس میں وفاقی وزرا، وزیر مملکت، اٹارنی جنرل اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

editor

Related Articles