خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومتی سرپرستی ختم ہونے کے بعد پارٹی کے سوشل میڈیا نیٹ ورک اور یوٹیوبرز کے کردار پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی صدیق جان کے بارے میں کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی سے پیسے لیتے تھے اور انہیں بیانیہ بنانے کے لیے ہائر کیا گیا تھا۔
مشعال یوسفزئی کے اس بیان نے سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان سے منسوب بیان کے مطابق، صدیق جان کو صحافی قرار دینے کے بجائے بیانیہ تشکیل دینے کے لیے کام پر رکھا گیا تھا اور انہیں اس کام کے عوض ادائیگی کی جاتی تھی۔
مشعال یوسفزئی نے گفتگو کے دوران کہا کہ صدیق جان ان سے پیسے لیتے تھے۔ ان کے الفاظ کے مطابق صدیق جان صحافی تو نہیں م نے اسے بیانیہ بنانے کے لیے ہائر کیا ہوا تھا انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدیق جان کو پیسے دیے جاتے تھے اور وہ آج کل بے روزگار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :شفیق جان نے بیرون ملک بیٹھے پی ٹی آئی یوٹیوبرز کو آڑے ہاتھوں لے لیا
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس، یوٹیوب چینلز اور آن لائن سیاسی مہمات کے کردار پر بحث جاری ہے،سیاسی جماعتوں کے حامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی جماعت کے مؤقف کو اجاگر کرتے ہیں، تاہم کسی فرد کو باقاعدہ ادائیگی کے عوض بیانیہ بنانے کے لیے ہائر کیے جانے کا معاملہ شفافیت اور صحافتی آزادی سے متعلق سوالات کو جنم دیتا ہے۔
صدیق جان کے علاوہ بھی متعدد یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا شخصیات کے سیاسی جماعتوں سے روابط اور ممکنہ مالی معاونت کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تاہم دیگر افراد کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ٹھوس شواہد اور متعلقہ فریقوں کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
مشعال یوسفزئی کے بیان کے بعد یہ معاملہ مزید توجہ حاصل کر سکتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیے ڈیجیٹل بیانیہ تیار کرنے والے افراد کا کردار کیا ہوتا ہے، انہیں کس نوعیت کی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں اور ان کی مالی معاونت کا طریقۂ کار کیا ہے۔
