نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایس سی او رہنمائوں سے اہم رابطہ،مختلف ممالک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایس سی او رہنمائوں سے اہم رابطہ،مختلف ممالک کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں

 نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں وزیراعظم قاہر رسول زادہ کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں شرکت کی۔

عشائیے کا اہتمام شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کے اجلاس میں شریک وفود کے اعزاز میں کیا گیا تھا۔

  یہ بھی پڑھیں :نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات، علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال

تقریب میں مختلف ممالک کی اعلیٰ قیادت اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر علاقائی تعاون اور سفارتی روابط کے حوالے سے اہم ممالک کے نمائندے ایک جگہ جمع ہوئے۔

عالمی قیادت کی شرکت

عشائیے میں روس، قازقستان، ازبکستان اور بیلاروس کے وزرائے اعظم شریک ہوئے۔ منگولیا کے نائب وزیراعظم نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

اس اجتماع میں ایس سی او کے اجلاس میں شرکت کے لیے دوشنبے آنے والے مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔ اس طرح تقریب نے رکن اور شریک ممالک کی قیادت کو ایک مشترکہ سفارتی ماحول میں جمع کیا۔

پاکستان کی نمائندگی

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی عشائیے میں شرکت پاکستان کی اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ تھی۔ ان کی شرکت ایسے موقع پر ہوئی جب دوشنبے میں ایس سی او کے سربراہانِ حکومت کی کونسل کا اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کیلئے پرعزم ہے، اسحاق ڈار

ایس سی او علاقائی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان روابط کے لیے ایک اہم فورم ہے۔ اس تنظیم کے اجلاسوں میں مختلف ممالک کی قیادت کو باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کا موقع ملتا ہے۔

علاقائی سفارت کاری کا تناظر

تاجک وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں مختلف ممالک کی اعلیٰ قیادت کی شرکت نے اجلاس کے موقع پر سفارتی روابط کو نمایاں کیا۔ ایسی تقریبات میں وفود کو رسمی اجلاسوں سے ہٹ کر ایک مشترکہ ماحول میں ملنے کا موقع ملتا ہے۔

پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اسحاق ڈار کی شرکت اسلام آباد کے علاقائی سفارتی روابط کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ تاہم دستیاب معلومات میں عشائیے کے دوران ہونے والی کسی مخصوص دوطرفہ ملاقات یا طے پانے والے معاہدے کی تفصیل شامل نہیں۔

editor

Related Articles