خیبرپختونخوا میں 13 سالہ تباہی کے بعد بھی انا ختم نہیں ہوئی! رانا ثنا اللہ کی اپوزیشن پر سخت تنقید

خیبرپختونخوا میں 13 سالہ تباہی کے بعد بھی انا ختم نہیں ہوئی! رانا ثنا اللہ کی اپوزیشن پر سخت تنقید

 وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن بالخصوص پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کے باوجود اپوزیشن اپنی ضد کی سیاست چھوڑنے کو تیار نہیں۔

سابق وزیرداخلہ اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ  خیبرپختونخوا میں جو دہشت گردی کی صورتحال تھی اس پر صوبائی حکومت کا تعاون نہیں مل رہا تھا، بلوچستان میں صوبائی حکومت مکمل طور پر وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔

سیاسی جماعتوں کو دعوت

رانا ثنا اللہ نے تمام  جماعتوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا  کہ  میں آج تمام سیاسی جماعتوں کو کہتا ہوں کہ  دہشت گردی کے معاملے پر وزیراعظم کے ساتھ بیٹھیں ، وزیراعظم آج بھی دہشت گردی کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا  کہ محمود اچکزئی اسپیکر قومی اسمبلی کے دستخط سے اپوزیشن لیڈر بنے ہیں اور انہوں نے اپنا عہدہ تو سنبھال لیا ہے، لیکن وہ اسپیکر چیمبر میں جانے سے گریزاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی  کے پاس میں خود گیا اور کہا کہ ضد چھوڑیں اور وزیراعظم سے ملاقات کریں۔

ایپکس کمیٹی میں بدستور اپوزیشن کی عدم شرکت

رانا ثنا اللہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے، لیکن اپوزیشن کے دوست ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں نہیں آتے جہاں کھل کر تمام سیکیورٹی اور قومی امور پر بات چیت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مذاکرات کےدروازے کھلے ، ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا : رانا ثنا اللہ

انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں میں گالی گلوچ بریگیڈ اداروں کے خلاف بیانیہ بناتا ہے، رولز،قوانین کے تحت ملاقاتوں پر پابندی لگے گی ، کبھی بانی پی ٹی آئی عدالتوں کے ذریعے باہر جیل سے آنا چاہتے ہیں اور کبھی ٹرمپ کے ذریعے باہر آنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل  رانا ثناء اللہ نے واضح کیا تھا  کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی ہوگی اور حکومت ملاقات کے لیے کسی تیسری جگہ مقرر کرنے کی شرط تسلیم نہیں کرے گی۔

editor

Related Articles